جائیداد اور وراثت کے تنازعات سول عدالتوں میں طے ہوں گے،سپریم کورٹ

8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے تحریر کیا فیصلے میں واضح کیا گیا کہ وفاقی محتسب کے اختیارات واضح ملکیتی حقوق کے تحفظ اور قبضہ واپس دلانے تک محدود ہیں

November 6, 2026 · قومی
جائیداد اور وراثت کے تنازعات سول عدالتوں میں طے ہوں گے،سپریم کورٹ

جائیداد اور وراثت کے تنازعات سول عدالتوں میں طے ہوں گے،سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ وفاقی محتسب کو جائیداد کی ملکیت اور وراثت سے متعلق پیچیدہ تنازعات کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے معاملات کا فیصلہ مجاز سول عدالتیں کریں گی۔

عدالت عظمیٰ نے خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق وفاقی محتسب اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے متنازعہ جائیداد کا معاملہ سول عدالت کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کا 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے تحریر کیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی محتسب کے اختیارات واضح ملکیتی حقوق کے تحفظ اور قبضہ واپس دلانے تک محدود ہیں، جبکہ پیچیدہ قانونی اور حقائق سے متعلق تنازعات کا فیصلہ شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے خواتین کی جائیداد سے متعلق سول درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرکے منظور کرلیا اور ہدایت کی کہ وفاقی محتسب میں دائر شکایت سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ سول جج باڑہ کی عدالت میں جمع کرایا جائے۔

سپریم کورٹ نے سول عدالت کو فریقین کو 15 روز کے اندر پیش ہونے کے نوٹس جاری کرنے اور مقدمے کا فیصلہ مناسب مدت میں کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

فیصلے کے مطابق متنازعہ ہبہ نامے کی اصلیت، قانونی حیثیت اور وراثتی حقوق کا تعین سول عدالت کرے گی، کیونکہ ان معاملات میں قانونی نکات اور حقائق کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ خواتین کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کا ایکٹ 2019 خواتین کو جائیداد سے غیر قانونی طور پر محروم کیے جانے کے خلاف اہم قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ خواتین کے حقوق کا تحفظ قانون کا بنیادی مقصد ہے، تاہم وفاقی محتسب اور سول عدالت کے اختیارات میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔