یوئینو بینک اسکینڈل، پیراگوئے کے صدر سینتیاگو پینا مستعفی
تاریخ موجودہ واقعات کا فیصلہ کرے گی اور اگر وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے تو معذرت خواہ ہیں۔
یوئینو بینک اسکینڈل، پیراگوئے کے صدر سینتیاگو پینا مستعفی
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ملک کے استحکام، سماجی امن اور سرکاری اداروں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے صدارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینتیاگو پینا کا کہنا تھا کہ ان کی اولین ترجیح ان شہریوں کو ذہنی سکون فراہم کرنا ہے جنہوں نے ملک کے مالیاتی نظام پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی رقوم بینک میں جمع کرائی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ موجودہ واقعات کا فیصلہ کرے گی اور اگر وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے تو معذرت خواہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر کے استعفے کی منظوری یا مسترد کرنے کا فیصلہ اب پیراگوئے کی پارلیمنٹ کرے گی۔ دوسری جانب یوئینو بینک اسکینڈل پر صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا تھا۔
اپوزیشن کے 35 ارکان اور حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے منحرف اراکین نے آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے الزامات پیش کیے تھے۔ ان میں فرائض کی سنگین اور مسلسل غفلت کے الزامات بھی شامل تھے۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق یوئینو بینک کے صارفین کی تعداد تقریباً 29 لاکھ 40 ہزار تھی، جو پیراگوئے کی بالغ آبادی کا تقریباً 60 فیصد بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ تک بینک میں سرکاری شعبے کے تقریباً 80 کروڑ ڈالر کے ڈپازٹس موجود تھے، جو اس کے مجموعی ڈپازٹس کا ایک چوتھائی تھے۔ ان رقوم میں ملک کے بڑے پن بجلی منصوبوں کے منتظمین کے ڈپازٹس بھی شامل تھے۔
پیراگوئے کے مرکزی بینک نے یوئینو بینک کا مالیاتی استحکام کا تناسب مقررہ کم از کم حد کے نصف سے بھی کم ہونے پر اس کی بندش اور مالیاتی تصفیے کا عمل شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔
بینک کی بندش کے بعد موبائل ایپ، کارڈ کے ذریعے ادائیگی اور رقوم کی منتقلی کی سہولتیں معطل ہوگئیں، جبکہ برانچز بھی بند کر دی گئیں۔ اس صورتحال کے باعث لاکھوں صارفین اپنی جمع پونجی تک رسائی سے محروم ہوگئے اور رقوم نکلوانے کے لیے بینکوں کے باہر قطاریں لگ گئیں۔