ری پبلکنز کی شکست میں مسلم ووٹرز نے اہم کردار ادا کیا، عبدالملک مجاہد

ٹرمپ نے ایران جنگ چھیڑ کر ووٹرز کو مایوس کیا، مسلمانوں نے ووٹ سے بدلہ لیا ، امت سے گفتگو

November 6, 2026 · قومی
جسٹس فار آل کے صدر عبد الملک مجاہد کی فائل فوٹو

جسٹس فار آل کے صدر عبد الملک مجاہد کی فائل فوٹو

کراچی : امریکہ میں مسلم اور پاکستانی کمیونٹی کے اہم رہنما اور انسانی حقوق کی تنظیم جسٹس فار آل کے صدر عبد الملک مجاہد نے کہا ہے کہ ری پبلکن پارٹی کی شکست میں مسلم ووٹرز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

دو برس قبل 30 فیصد مسلم ووٹرز نے صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کو ووٹ دئیے تھے، اس وقت مسلمان غزہ کی صورتحال پر بائیڈن کی خاموشی سے ناراض تھے، اور انہوں نے جنگیں ختم کرانے کے ٹرمپ وعدے کو دیکھتے ہوئے دی پبلکن کو ووٹ دییے ، لیکن صدر ٹرمپ نے نہ صرف مسلم بلکہ دوسرے جنگ مخالف امریکی ووٹر کو بھی مایوس کیا، غزہ میں مکمل امن کرانے کے بجائے ایران جنگ چھیڑ دی، جس کا بدلہ ووٹرز نے ووٹ کے ذریعہ لیا ہے، اس بار ٹرمپ کی جماعت کو 5 فیصد سے زائد مسلم ووٹ نہیں مل سکا، جبکہ ڈیموکریٹس کو 90 فیصد مسلم ووٹ ملا ہے۔

شکاگو سے ’’امت ‘‘کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہناتھا پہلی بار200 سے زائد مسلم امیدوار وں نے مختلف ریاستوں میں الیکشن لڑا ہے، عبدالرحمان السید کی صورت میں ایک مسلم سینیٹر منتخب ہوا ہے، یہ امریکی سماج میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

انہوں نے بلاشبہ زبردست مہم چلائی ، اور امریکی عوام کا اعتماد حاصل کیا ۔اس بار انتخابات میں اسرائیل کی فلسطینیوں کےحوالے سے پالیسیوں کیخلاف بھی باتیں کی گئیں، اور یہ ثابت ہوا کہ اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت آپ کےووٹ کم نہیں کرتا ، بلکہ بڑھاتا ہے، اس سوال پر کہ مسلم اور جنگ مخالف امریکی ووٹرز کی ٹرمپ سےناراضگی کی بڑی وجہ غزہ کی صورتحال بنی یا ایران جنگ؟۔

عبدالملک مجاہد کا کہنا تھا یہ دونوں چیزیں کسی حد تک جڑی ہوئی ہیں، ایک طرف غزہ کی صورتحال پر امن پسند لوگ نالاں تھے، تو دوسری جانب یہ تاثر کہ اسرائیل کی ایما پر ایران پر حملہ کیا گیا، اس نے ناراضگی میں اضافہ کردیا، تیل و گیس مہنگا ہونے سے امریکہ میں مہنگائی کی جو لہر آئی ہے، امریکی عوام اس کا ذمہ دار ٹرمپ کو سمجھتے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا مسلم ووٹر روایتی طور پر ڈیموکریٹس کےساتھ ہی رہا ہے، لیکن دو سال پہلے ٹرمپ کو 30 فیصد ووٹ ملے تھے، جس کی وجہ اس وقت بائیڈن انتظامیہ کی غزہ صورتحال پر خاموشی تھی، اب بھی یہ ڈیموکریٹس کا امتحان ہوگا کہ وہ کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد کس طرح جنگوں کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں، معیشت کیسے بہتر بنانے کیلئے قانون سازی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 3 جنوری کو جب نئی کانگریس اپنا کام شروع کرے گی تو اقتدار کا توازن دوبارہ بحال ہوجائے گا۔ اب صدر کو بجٹ کی منظوری کے لیے ایسے ارکان کے ووٹ درکار ہوں گے جو وائٹ ہاؤس کے احکامات پر آنکھیں بند کرکے عمل نہیں کریں گے۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کی طرف سے نتائج تسلیم کرنےکو اچھی پیش رفت قرار دیا ، تاہم یاد دلایا کہ امریکی صدر نے گزشتہ 2 برس تک انتخابی قواعد کو اپنے حق میں موڑنے کی ہر ممکن کوششیں کیں۔ کئی انتخابی حلقوں کی نئی حد بندیاں کردیں۔ دھاندلی کے الزامات دہراتے رہے۔

انہوں نے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے عمل کو محدود کرنے کی کوشش ۔ لیکن ان میں سے کوئی اقدام کامیاب نہ ہوسکا۔ جب بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے نکل آئیں تو ایسے ہتھکنڈے کارگر نہیں رہتے۔

عبدالملک مجاہد نے امریکی سیاست میں پیسے کے بڑھتے عمل دخل پر تشویش کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ اس انتخاب میں سب سے بڑے نقصان اٹھانے والوں میں بعض ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے نام بیلٹ پیپر پر موجود نہیں تھے۔ مارک زکربرگ، ٹم کک، جیف بیزوس اور سب سے بڑھ کر ایلون مسک جنہوں نے صرف ٹیکساس کو ری پبلکنز کے ہاتھ میں رکھنے کے لیے کم از کم 212 ملین ڈالر خرچ کیے، جس کے نتیجے میں یہ امریکی تاریخ کا سب سے مہنگا سینیٹ انتخاب بن گیا۔ لیکن ٹیکساس کے ووٹروں کو خریدا نہیں جاسکا۔

انہوں نے اس کے باوجود ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کو منتخب کرلیا۔ انہوں نےزور دیا کہ نومنتخب کانگریس میں ڈیموکریٹس کو سیاست میں پیسے کا استعمال محدود کرنے کیلئے بھی قانون سازی کرنی چاہے۔