امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

جہاز ایم وی ہُدا کو اس وقت نشانہ بنایا جب اس کے عملے نے متعدد انتباہات کے باوجود امریکی بحری ناکہ بندی کے احکامات پر عمل نہیں کیا

November 8, 2026 · بام دنیا
امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے بحیرۂ عمان میں ایران کی بحری ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کرنے والے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی فوجی طیارے نے کارگو جہاز ایم وی ہُدا کو اس وقت نشانہ بنایا جب اس کے عملے نے متعدد انتباہات کے باوجود امریکی بحری ناکہ بندی کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔ جہاز پر سینٹ کٹس اینڈ نیوس کا پرچم لہرا رہا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی سے قبل جہاز کے عملے کو ان حصوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی جنہیں نشانہ بنایا جانا تھا۔ ان کے مطابق یہ جہاز ایک ایرانی بندرگاہ پر قیام کے بعد خطے کے پانیوں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ امریکی فوج ایران کی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے گی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بھی بحیرۂ عمان میں ایک تجارتی جہاز اور فوجی دستوں کے درمیان پیش آنے والے واقعے کی اطلاع دی ہے۔

برطانوی ادارے کے مطابق واقعے کے نتیجے میں جہاز کو پہنچنے والے نقصان، عملے کی صورتحال اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات سے متعلق فوری طور پر تفصیلات دستیاب نہیں تھیں، جبکہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ برطانوی ادارے کی جانب سے رپورٹ کیا گیا واقعہ اور امریکی فوج کا ایم وی ہُدا کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک ہی واقعے سے متعلق ہیں یا نہیں۔

سینٹ کام کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اب تک امریکی افواج 147 تجارتی جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کر چکی ہیں، جبکہ مزید 5 جہازوں کو احکامات ماننے سے انکار پر روک دیا گیا ہے۔