میٹا کا یوٹرن، فیس بک اور انسٹاگرام کی متنازع پالیسی واپس لے لی
ان شرائط کے تحت میٹا کو کاروباری اکاؤنٹس رکھنے والے صارفین کی ویب سائٹس سے مواد حاصل کرنے اور اسے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے لیے استعمال کرنے کا اختیار ملنا تھا۔
میٹا کا یوٹرن، فیس بک اور انسٹاگرام کی متنازع پالیسی واپس لے لی
نیویارک: ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام کے کاروباری صارفین کے لیے متعارف کرائی گئی متنازع شرائط پر اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے، جس کے بعد صارفین اور کاروباری حلقوں میں پائی جانے والی تشویش میں کمی کی توقع ہے۔
کمپنی کو نئی پالیسی کے اعلان کے بعد شدید تنقید کا سامنا تھا۔ ان شرائط کے تحت میٹا کو کاروباری اکاؤنٹس رکھنے والے صارفین کی ویب سائٹس سے مواد حاصل کرنے اور اسے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے لیے استعمال کرنے کا اختیار ملنا تھا۔
اکتوبر کے وسط میں اس پالیسی کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد مختلف ممالک میں مخالفت شروع ہوگئی تھی۔ امریکا اور برطانیہ کے سیاست دانوں سمیت متعدد حلقوں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ نئی شرائط کے ذریعے پبلشرز اور کاروباری اداروں کو اپنے تیار کردہ مواد پر اختیار اور کنٹرول کھونے کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق میٹا کے پلیٹ فارمز کا استعمال جاری رکھنے کے لیے کاروباری صارفین کو اپنی ویب سائٹس کے مواد سے متعلق اہم اختیارات سے دستبردار ہونا پڑ سکتا تھا۔
تنقید بڑھنے کے بعد میٹا نے مختلف عوامی بیانات اور پالیسی میں تبدیلیوں کے ذریعے صارفین کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی نے نئی شرائط کے متن سے لفظ ’ٹرین‘ یعنی تربیت بھی حذف کردیا تھا تاکہ اس تاثر کو کم کیا جاسکے کہ صارفین کی تحریروں اور دیگر مواد کو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
تاہم مسلسل مخالفت کے بعد کمپنی نے متنازع تبدیلی سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کردیا۔