افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا ذاتی محافظ قتل
مقتول کی لاش سڑک کنارے سے برآمد ہوئی، جس پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔
افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا ذاتی محافظ قتل
افغانستان کے عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ذاتی محافظ کو صوبہ بغلان میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ مقتول کی لاش سڑک کنارے سے برآمد ہوئی، جس پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔
افغان میڈیا اور مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ جمعہ 6 نومبر کو ضلع دند غوری میں پیش آیا، تاہم واقعے اور مقتول کی شناخت کی تصدیق ہفتہ 7 نومبر کو سامنے آئی۔
رپورٹس کے مطابق مقتول کی شناخت قاری نور جان احمدزئی کے نام سے ہوئی ہے، جو ’طیب بدری‘ کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ ان کا تعلق صوبہ بغلان کے ضلع دند غوری سے تھا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قاری نور جان اپنے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے آبائی علاقے آئے ہوئے تھے، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے انہیں نشانہ بنایا۔ بعد ازاں ان کی لاش سڑک کے کنارے سے ملی۔
تاحال واقعے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی اور نہ ہی قتل کے محرکات سامنے آسکے ہیں۔