پنجاب کے بڑے شہر شدید اسموگ کی لپیٹ میں،لاہور دنیا بھر میں پہلے نمبر پر
خطرناک فضائی آلودگی، لاہور کا اے کیو آئی 297 ریکارڈ، ننکانہ صاحب میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی۔
پنجاب کے بڑے شہر شدید اسموگ کی لپیٹ میں،لاہور دنیا بھر میں پہلے نمبر پر
ملک کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی اور اسموگ کا راج برقرار ہے، اور صوبائی دارالحکومت لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ اور محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس یعنی اے کیو آئی 297 ریکارڈ کیا گیا جبکہ فضا میں آلودگی 292 پرٹیکولیٹ میٹر تک جا پہنچی۔
شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح خطرناک حد تک بلند ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن میں اے کیو آئی 429، برکی روڈ پر 358 جبکہ ماڈل ٹاؤن میں 289 ریکارڈ کیا گیا۔ دریں اثنا، پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی فضائی معیار انتہائی مضرِ صحت سطح پر پہنچ چکا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ننکانہ صاحب میں سب سے زیادہ 685 اور ڈیرہ غازی خان میں 611 پرٹیکولیٹ میٹر فضائی آلودگی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ جھنگ میں 498، ملتان میں 382، سرگودھا میں 363، فیصل آباد میں 323 اور گوجرانوالہ میں 296 پرٹیکولیٹ میٹر آلودگی ریکارڈ کی گئی۔
ملتان بھی زہریلی فضا کی لپیٹ میں ہے جہاں مجموعی اے کیو آئی 316 تک جا پہنچا، جبکہ ممتاز آباد کے قریب فضائی آلودگی کی شرح 423 اور انڈسٹریل اسٹیٹ میں 386 ریکارڈ ہوئی۔ فیصل آباد کے شہری بھی آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں جہاں مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 350 سے تجاوز کر گیا۔ اسموگ کے باعث شہریوں میں سانس، گلے اور آنکھوں کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے، شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 16 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریড تک رہنے کی توقع ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 67 فیصد جبکہ ہوا کی رفتار 2 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ آلودگی کی موجودہ سطح انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ماہرین کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، کھلی فضا میں ورزش کو محدود کریں اور باہر نکلتے وقت حفاظتی ماسک کا لازمی استعمال کریں۔ خصوصی طور پر بچوں، بزرگوں اور سانس کے امراض میں مبتلا مریضوں کو اس صورتحال میں زیادہ احتیاط برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔