جہلم میں انجینیئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش،ملزم گرفتار

February 16, 2026 · قومی

صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے تھانہ سٹی میں مذہبی اسکالر اور مبلغ انجینیئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش کے الزام میں خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ شخص کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ انجینیئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی ’قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘ کی مرکزی کمیٹی کے ایک رکن کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

درج رپورٹ کے مطابق اتوار کو لیکچر کے اختتام پر تصویری نشست کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے حملہ کرتے ہوئے انجینیئر محمد علی مرزا کا عمامہ زمین پر گرا دیا اور دونوں ہاتھوں سے ان کا گلہ دبانے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران ملزم نے بلند آواز میں نعرے لگائے اور مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی۔ جماعت کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

پولیس کے مطابق موقع پر موجود افراد نے ملزم کو قابو کر کے اکیڈمی میں تعینات اہلکاروں کے حوالے کیا۔ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

جہلم پولیس کا کہنا ہے کہ مارچ 2021 میں بھی انجینیئر محمد علی مرزا پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کے بازو پر زخم آیا تھا، تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح 2017 میں بھی ایک مبینہ قاتلانہ حملے میں وہ بچ گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس انجینیئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم دسمبر 2025 میں انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

ان کے وکیل محمد طاہر ایوبی نے بتایا کہ جہلم میں ہر اتوار کو اکیڈمی میں درس و تدریس اور سوال و جواب کی نشست منعقد ہوتی ہے جس میں ملک بھر سے افراد شریک ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘اکیڈیمی کی یہ پالیسی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بار اس سیشن میں شریک ہو تو وہ دوسری بار شامل نہیں ہو سکتا، اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ سیشن میں شریک ہوسکیں۔’

ان کے مطابق واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا جس سے معلوم ہوا کہ ملزم اتوار کی صبح نو بجے اکیڈمی میں داخل ہوا اور اکیلا ہی موجود رہا۔

انہوں نے بتایا کہ نشست صبح 10 بجے شروع ہوئی اور بغیر وقفے کے تقریباً ڈیڑھ بجے تک جاری رہی۔ اختتام پر مرکزی ہال سے ملحقہ ایک کمرہ بیرون شہر سے آنے والوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے جہاں وہ تصاویر بنواتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص بھی تصویر کے لیے اسی کمرے میں آیا اور وہاں موجود انتظامی رکن کو موبائل دے کر کہا کہ ‘میری انجینیئر صاحب کے ساتھ تصویر بنا دو تاکہ یادگار رہے۔’

وکیل کے مطابق جیسے ہی ملزم قریب پہنچا اس نے اچانک حملہ کر دیا اور دونوں ہاتھوں سے گلہ دبانے کی کوشش کی۔ ‘اس سے پہلے اس نے نعرہ لگایا لبیک یا رسول اللہ۔’

انہوں نے کہا کہ شور سن کر ہال کے اندر اور باہر موجود افراد کمرے میں پہنچے، ملزم کو قابو کیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔

ان کے بقول ‘اس واقعہ کے فوری بعد اکیڈیمی کے تمام دروازے بند کر دیے گئے تاکہ اگر حملہ آور کا کوئی ساتھی یہاں موجود ہے تو اس کو بھی پکڑا جا سکے، پولیس کی ٹیموں اور اکیڈیمی کے سٹاف نے تمام لوگوں کی فرداً فرداً چیکنگ کی جس کے بعد دروازے کھول دیے گئے اور لوگوں کو یہاں سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔’

مقامی پولیس کے مطابق ملزم کی جیب سے شناختی کارڈ برآمد ہوا جس کے مطابق اس کی عمر 26 سال ہے اور وہ ایبٹ آباد کا رہائشی ہے۔