امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا،ایرانی لڑاکا طیارہ پُراسرار طور پر گر کر تباہ

February 20, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا

تہران: ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا۔دوسری جانب ایران کے مغربی صوبے ہمدان میں ایک لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوگیا تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔

ایسے وقت میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس نے بتایا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ میں شامل اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب تیازی سے بڑھ رہا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کے بقول توقع ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں مزید چند دن لگیں گے جس کے بعد یہ ایران کے خلاف ممکنہ آپریشنز کے لیے تیار حالت میں موجود ہوگا۔

دوسری جانب ایران کے مغربی صوبے ہمدان میں ایک لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق لڑاکا طیارے نے دو پائلٹس کے ہمراہ پرواز بھری تھی۔

یہ طیارہ 31 ویں ٹیکٹیکل فائٹر اسکواڈرن سے تعلق رکھتا تھا۔ دوران پرواز مشکوک صورت حال کو دیکھتے ہوئے پائلٹس سے واپسی کا فیصلہ کیا۔

ہوا بازی کے ماہر نے العربیہ کو بتایا کہ پائلٹس کسی حد تک طیارے کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ہمدان کے ایئربیس تک واپس لانے میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے جب گیئر کھولے گئے تو اچانک طیارہ ہچکولے کھاتے ہوئے زمین بوس ہوگیا۔

ترجمان ایرانی فوج نے بتایا کہ طیارے میں سوار دو پائلٹس میں سے ایک جان کی بازی ہار گیا جب کہ دوسرا پائلٹ محفوظ رہا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑاکا طیارے نے معمول کی تربیتی پرواز بھری تھی اور تاحال حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔

ایرانی فضائیہ کے دفتر برائے تعلقاتِ عامہ نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تاہم بیان میں طیارے کی قسم اور حادثے کے مکمل حالات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب ایران کی ایروسپیس فورس نے اس قیاس آرائی پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا کہ آیا طیارہ دوستانہ فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا یا نہیں ۔