سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا فیصلہ:شناختی کارڈ بلاک کرنا غیر قانونی قرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں بلکہ عام زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔
جسٹس منیب اختر کی جانب سے جاری تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا اس کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر رقم کی وصولی کے لیے شناختی کارڈ بلاک کیا جا سکتا ہے تو کیا کل کو عدالتیں بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کرنے کا بھی حکم دیں گی؟
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔ مزید کہا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے سی پی سی میں کی گئی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا، لہٰذا سندھ ہائی کورٹ کا اس بنیاد پر دیا گیا حکم درست نہیں تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا سندھ ہائیکورٹ کا حکم غیر قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس منیب اختر نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں بلکہ عام زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے،… pic.twitter.com/wLHpOge4hz
— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) February 21, 2026
فیصلے کے مطابق 2016 میں ٹرائل کورٹ نے ایک پراپرٹی کیس میں درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی۔ عدم ادائیگی پر ٹرائل کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا، جسے سندھ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ قانون میں صریح اجازت کے بغیر کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اس فیصلے کے ذریعے یہ اصول بھی طے کیا کہ بنیادی شہری دستاویزات کو عدالتی دباؤ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔