گل پلازہ آتشزدگی،بچوں کے ماچس کھیلنے سے آگ لگی،ایس ایس پی ٹریفک کا بیان
سندھ ہائی کورٹ کے سامنے سانحہ گل پلازہ کمیشن میں ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے پیش ہو کر تفصیلی بیان دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو مین روڈ والی سائیڈ پر آگ بہت شدت سے لگی ہوئی تھی، جبکہ ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی اور لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے۔
اعجاز شیخ کے مطابق تین سائیڈز پر پولیس کی نفری لوگوں کو روکتی رہی، لیکن آگ نے تیزی سے پھیل کر تینوں سائیڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انہوں نے بتایا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، جن کے بیانات کمیشن نے لیےاور یہ واقعہ انکوائری کا حصہ ہیں۔
ایس ایس پی نے آگ لگنے کی وجہ میں بچوں کے کھیل اور آگ پکڑنے والی اشیا جیسے کہ بلینکٹ، کپڑے، پھول، اسپرے وغیرہ کو قرار دیا۔ کمیشن کی جانب سے بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی شیئر کرنے کی درخواست پر بتایا گیا کہ پلازہ کے 17 دروازوں میں سے صرف 4 کھلے تھے، جبکہ دروازے کھولنے کی ذمہ داری ایسوسی ایشن کی تھی۔
اعجاز شیخ نے واضح کیا کہ ان کا کام صرف لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا اور اندر کتنے لوگ موجود تھے، اس کا انہیں اندازہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی اور گل پلازہ کے دروازے عام دنوں میں 10 بجے بند کر دیے جاتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے وقت بڑھایا گیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شہر بھر میں 5200 پولیس کی نفری موجود ہے، اور حادثے کے وقت مختلف جگہوں پر نفری تعینات تھی تاکہ ریسکیو اور کنٹرول کے کام میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔