ایرانی سپریم لیڈرنے اپنی ذمہ داریاں علی لاریجانی کو سونپ دیں۔ نیویارک ٹائمز
جہاں ایک طرف ایران پر امریکہ کے حملوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے، وہیں ایرانی قیادت بد ترین صورت حال کے لیے بھی تیاریاں کر رہی ہے۔
امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز ‘‘کے مطابق اعلیٰ ایرانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنائی نے اپنے معتمد ترین ساتھیوں میں سے ایک علی لاریجانی کو امریکہ کے ساتھ تصادم کے بڑھتے ہوئے امکانات کے پیش نظر ملک کے معاملات چلانے کی ذمے داری سونپ دی ہے۔ اس لیے کہ ان کے (خامنائی) اپنے اور ان کے بیٹے مجتبیٰ کے قتل کے خدشات بھی شامل ہیں۔
اخبارکاکہناہے کہ 6 اعلیٰ ایرانی حکام، پاسداران انقلاب کے 3 ارکان اور سابق سفارت کاروں نے واضح کیا کہ لاریجانی جنوری کے اوائل میں ملک میں مظاہروں کے آغاز اور امریکی دھمکیوں کے بعد سے عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں۔ 67 سالہ لاریجانی، جو پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور اس وقت سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں، عملی طور پر ملکی امور چلا رہے ہیں۔
ان چھ حکام اور پاسداران انقلاب کے ارکان نے بتایا کہ خامنہ ای نے لاریجانی اور چند قریبی سیاسی و فوجی ساتھیوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں تاکہ کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے، اور سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے والی قتل کی کوششوں کے سامنے اسلامی جمہوریہ کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایرانی سپریم لیڈر کی ہدایات میں ہر اس فوجی یا سرکاری عہدے کے لیے چار متبادل افراد کا تعین کیا گیا ہے جس پر وہ خود تقرری کرتے ہیں اور تمام کمانڈروں کو چار ممکنہ جانشین نامزد کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کے ایک محدود حلقے کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ اگر ان سے رابطہ منقطع ہو جائے یا وہ مارے جائیں تو وہ فیصلے کر سکیں۔
حکام نے انکشاف کیا کہ ایران اب اس بنیاد پر کام کر رہا ہے کہ جوہری معاملے پر سفارتی مذاکرات جاری رہنے کے باوجود امریکی حملے ناگزیر اور قریب ہیں اور اس نے اپنی تمام افواج کو الرٹ کی اعلیٰ ترین سطح پر کر دیا ہے۔
ایرانی قیادت کے منصوبوں میں خود سیاسی نظام کی بقا کے منظرنامے بھی شامل ہیں، جن میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اگر خامنہ ای اور اعلیٰ حکام مارے گئے تو ملک کی قیادت کون کرے گا۔ قیادت اس پر بھی غور کر رہی ہے کہ “ایران کی ڈیلسي” کون ہو سکتا ہے، جو وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسي روڈریگز کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک چلانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔
حکام کے مطابق لاریجانی اس فہرست میں سرِفہرست ہیں، جن کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی ہیں