فلسطینیوں کے خلاف قانونی لبادے میں نازی طرز کے اسرائیلی اقدامات کی تیاریاں
۔اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) ایک ایسے نازی طرزکے بل کو آگے بڑھا رہی ہے جس کے منظور ہونے کی صورت میں قابض حکام کو فلسطینیوں کو قانونی طور پر سزائے موت دینے کی اجازت مل جائے گی۔یہ بل اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت 2022 کے آخر میں بنجمن نیتن یاہو کی مخلوط حکومت بنی تھی۔ اس کا مطالبہ ایٹمار بن گویر نے کیا تھا، جو اب قومی سلامتی کے وزیر ہیں ۔ نومبر میں اس بل کو پہلی خواندگی میں پاس کر لیا گیا، اور جنوری میں اس کی دفعات سامنے آئیں۔ان کے تحت سزا سنانے کے 90 دنوں کے اندر پھانسی کی صورت میں عملدرآمد کیا جائے گا، اوراپیل کا حق نہیں ہوگا۔ حملوں کی منصوبہ بندی یا اسرائیلیوں کو قتل کرنے کے الزام پرفلسطینیوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بن گویر بارہا فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
ماہرین کا کہناہے کہ معاملات کا اس نہج تک پہنچنا حیران کن بالکل نہیں۔ دہائیوں سے بین الاقوامی برادری نے فلسطینی قیدیوں کی قسمت کو نظر انداز کیا ہے۔ گزشتہ ڈھائی سالوں میں اسرائیلی جیلوں میں بغیر کسی الزام کے قید فلسطینیوں پر ہونے والے تشدد پر عالمی سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ فلسطینیوں کی سزائے موت کو قانونی شکل دینے کی اسرائیلی کوششیں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اگلے اقدامات کا حصہ ہیں۔
فی الوقت اسرائیل کی جانب سے حراست میں لیے گئے ایک تہائی سے زیادہ فلسطینی انتظامی حراست میں ہیں، یعنی انہیں بغیر کسی الزام کے قید رکھا گیا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اس تناظر میں، سزائے موت کا بل فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جاری سلوک کے تسلسل کا حصہ ہے۔ فلسطینیوں کے نکتہ نظر سے یہ بل انتقام کا ایک اور حربہ ہے۔یہ بل ان تمام خاندانوں کے لیے بھی ایک بھیانک خواب ہے جن کا کوئی فرد اسرائیلی جیل میں ہے۔اس سے بھی زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ اس بل کا اطلاق ماضی سے (retroactively) بھی ہو سکتا ہے، یعنی کسی اسرائیلی کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں پہلے سے قید کسی بھی شخص کو سزائے موت دی جا سکے گی۔
مبینہ طور پر اسرائیلی حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ اس قانون کو آگے نہ بڑھائے یا اسے قابل قبول بنانے کے لیے متن میں ترمیم کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ،چونکہ اسرائیل ایک اور بین الاقوامی قانونی معیار کو بلڈوز کرنے کی راہ پر گامزن ہے، اسے زیادہ سے زیادہ تحمل کی اپیلوںیامذمتی بیانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس طرح کی کمزور بیان بازی نے گزشتہ چند دہائیوں اور خاص طور پر گزشتہ ڈھائی سالوں میں اسے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑانے کی جرات دی ہے۔ اگر عالمی برادری بین الاقوامی قانونی نظام کے بچے کھچے وقار کو بچانا چاہتی ہے، تو اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنا رویہ یکسر تبدیل کرے۔ بین الاقوامی قانون کے احترام کے بارے میں کمزور بیانات دینے کے بجائے اسرائیل پر پابندیاں لگائی جائیں۔ فلسطینیوں کے خلاف جرائم کے مرتکب اسرائیلی حکام کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔