حاملہ دودھ پلانے والی خواتین کیلئے روزے میں گنجائش

کراچی (رپورٹ :محمد اطہر فاروقی) رمضان المبارک میں بیماری، سفر، حمل، بچے کو دودھ پلانے،شدید بھوک یا پیاس اور جان کے خطرے جیسی مخصوص صورتوں میں روزہ چھوڑنے کی گنجائش نکلتی ہے۔ مفتی و علما کے مطابق اگر روزہ رکھنے سے بیماری بڑھنے، جان یا کسی عضو کے نقصان کا خدشہ ہو اور ماہر مستند ڈاکٹر منع کرے تو روزہ نہ رکھا جائے تاہم صحت یابی کے بعد ان روزوں کی صرف قضا لازم ہوگی جبکہ کفارہ نہیں ہوگا۔ مشقت والے کام کی بنیاد پر خود سے روزہ چھوڑنا جائز نہیں، جبکہ شوگر و بلڈ پریشر کے مریض مفتی اور ڈاکٹر کے مشورے سے فیصلہ کر سکتے ہیں۔

 

تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک میں روزہ اسلام کے بنیادی فرائض میں شامل ہے، تاہم شریعتِ اسلامیہ نے بعض مخصوص حالات میں روزہ چھوڑنے کی اجازت بھی دی ہے۔’’امت‘‘ نے اسی حوالے سے مفتی اکرام ،فتوی اور علما سے بات کی تومفتی طلحہ عتیق نے بتایا کہ رمضان المبارک میں روزہ ایک اہم عبادت ہے جو کہ فرائض میں شامل ہے لیکن قرآن و سنت کے مطابق باری تعالیٰ کسی جان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ہیں۔ماہ مبارک میں کچھ صورتحال میں روزہ چھوڑنے کی گنجائش نکلتی ہے ، جیسا کہ آج کل کے عام حالات میں شوگر کے مریض جنہیں بھوک زیادہ لگتی ہے اور کچھ نہ کھائیں تو گھبراہٹ ہونا شروع ہو جاتی ہے

 

ایسے میں روزے نہ رکھنے کی گنجائش نکلتی ہے۔اس کے ساتھ حاملہ خواتین یا ایسی خواتین جو بچوں کو دودھ پلاتی ہیں انہیں بھی روزہ رکھنے میں نرمی ہوتی ہے ،کیونکہ عورت جب بچے کو دودھ پلاتی ہے تو اس کے لئے عورت کو کچھ نہ کچھ کھانا لازم ہوتا ہے تاکہ بچے کو خوراک مل سکے ۔اس کے ساتھ بلڈ پریشر کے مریض اور سفر کرنے والے مسافروں کو بھی چند شرائط کے ساتھ شریعت نے روزے میں گنجائش دی ہے ۔مفتی طلحہ عتیق کے مطابق حاملہ خواتین اور مذکورہ بیماریوں میں یہ شرط ہے کہ ان کی بیماری کے بڑھ جانے کا یا انہیں کوئی جانی نقصان ہونے کا خدشہ ہو اور ایسا ڈاکٹر اور طبیب جو دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو اس کے مشورے کے ساتھ روزہ چھوڑنے کی گنجائش نکلتی ہے ۔

 

ایسے شخص پر قضا تو ہوگی لیکن کفارہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مزدور یا کوئی بھی ایسا شخص جو مشقت سے کام کرتا ہے اور وہ خود سے تعین کر لے کہ میرا کام مشقت کا ہے تو میں روزہ نہیں رکھو گا تو ایسے میں شرعیت میں روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ مولانا عبیداللہ نے بتایا کہ رمضان شریف کے روزے ہر عاقل، بالغ مسلمان پر فرض ہیں، اور کسی صحیح عذر کے بغیر روزہ نہ رکھنا یا توڑنا حرام ہے۔ شریعت نے چنداعذار میں فرض روزہ نہ رکھنے یا توڑنے کی گنجائش دی ہے۔ سب سے پہلے اس میں سفرکی صورتحال ہے کہ اگر کوئی شخص سفر شرعی میں ہو، تو اس کے لیے روزہ توڑنا یا نہ رکھنا جا ئز ہے۔ بعد میں ان روزوں کی قضا لازم ہےالبتہ اگر سفر میں کوئی مشقت نہیں تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔

 

جو بیمار روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو، اور روزہ رکھنے سے اس کی بیماری بڑھنے کا اندیشہ نہ ہو، اس پر بھی روزہ رکھنا لازم ہے۔ اگر بیماری ایسی ہو کہ اس کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا یا روزہ رکھنے سے جان یا کسی عضو کی ہلاکت یابیماری بڑھ جانے یا اس کی طوالت کا خطرہ ہو تو اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ مگر جب تندرست ہوجائے تو بعد میں ان روزوں کی قضا اس کے ذمہ فرض ہے۔ کفارہ نہیں ہے۔

 

حاملہ یا مریضہ کو اگر روزہ رکھنے سے اپنی جان یا بچہ کی جان کا خوف ہو تو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا یا توڑنا جائز ہے۔ صحت کے بعد ان روزوں کی قضا کرنا ضروری ہو گا،البتہ کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ اسی طرح شدید بھوک اور پیاس کا لگنا ایسے میں اگر ہلاکت یا عقل کے نقصان کا اندیشہ ہو تو اس روزہ توڑنا جائز ہے البتہ بعد میں قضا لازم ہے۔ کفارہ نہیں ہے۔

 

دوسری جانب جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی ویب سائٹ پر موجود فتویٰ نمبر 144509101860 میں سوال کیا گیا کہ روزہ کن کن صورتوں اور مجبوریوں میں توڑا جا سکتا ہے جس سے قضا تو لازم آتی ہو لیکن کفارہ نہیں؟ اس کے جواب میں کہا گیا کہ روزہ دار اچانک ایسا بیمار ہوگیا کہ اگر روزہ نہ توڑے گا تو موت کا خطرہ ہے یا بیماری بڑھ جائے گی تو روزہ توڑ دینا بہتر ہے۔

 

مثلاً اچانک پیٹ میں شدید درد شروع ہوگیا، برداشت سے باہر ہوگیا۔ دوا لینا ضروری ہے یا سانپ اور بچھو وغیرہ نے کاٹ لیا تو ایسی صورت میں دوا پی لینا اور روزہ توڑ دینا درست ہے۔اس صورت میں قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔کھانا وغیرہ پکانے کی وجہ سے بے حد پیاس لگی اور اتنا زیادہ بے تاب ہوگیا کہ جان کا خوف ہے تو روزہ توڑ دینا جائز ہے،اس صورت میں قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔ لیکن اگر روزہ دار نے خود قصداً اتنا کام کیا جس سے ایسی حالت ہوگئی تو گناہ گار ہوگا۔

(یہ خبر آج کے امت اخبار میں شائع ہوئی)