ٹرمپ نے سالانہ صدارتی خطاب میں اپوزیشن کو رگڑ ڈالا، اراکین باہر پھینکوا دیئے
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے سالانہ صدارتی (اسٹیٹ آف دی یونیں) خطاب میں کہا ہے کہ انہوں نے امریکہ کو سہنری دور (گولڈن ایج) میں داخل کردیا ہے۔ اس خطاب میں بھی امریکی نے پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ لیا جب کہ ایران کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرایا۔ انہوں نے اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی پر شدید تنقید کی اور اس پر ملک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔اپوزیشن اراکین کو ایوان سے باہر پھینکوا دیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ محصولات (ٹیرف) کی پالیسی کے ذریعے انہوں نے کئی تنازعات کا خاتمہ کرایا اور اس کے باوجود مختلف ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج امریکا کے مخالفین خوفزدہ ہیں اور ملکی سرحدیں تاریخ کی محفوظ ترین سطح پر ہیں۔
صدر ٹرمپ نے عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے محصولات کے خلاف جاری فیصلے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ان کی انتظامیہ غیرقانونی ہجرت کے خلاف مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ نو ماہ کے دوران کوئی غیرقانونی فرد امریکا میں داخل نہیں ہو سکا اور غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔
یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا جب رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور پہلی بار معیشت کے معاملے پر عوام کا اعتماد متزلزل دکھائی دیتا ہے، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کی جماعت کو چیلنجز درپیش ہیں۔
ٹرمپ نے معیشت کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسٹاک مارکیٹ کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے ٹیکس میں رعایتوں، اوور ٹائم اور ٹپس پر ٹیکس چھوٹ، بزرگوں کے لیے کٹوتیوں اور بچوں کے لیے خصوصی “ٹرمپ اکاؤنٹس” کا ذکر کیا۔ انہوں نے محصولات (ٹیرف) کے اپنے فیصلوں کا دفاع کیا اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا، تاہم کہا کہ وہ متبادل اختیار استعمال کرتے ہوئے محصولات برقرار رکھیں گے۔
معاشی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ حکومت میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد تک کمی ہوئی اور بارہ ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پہلے سے زیادہ مضبوط اور خوشحال ہو چکا ہے۔
ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن اور کانگریس میں ڈیموکریٹس کو مہنگائی اور دیگر مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ریپبلکن پارٹی سوشل سیکیورٹی اور میڈیکیئر کا تحفظ جاری رکھے گی۔ خطاب کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور اسپیکر مائیک جانسن نے ان کی حمایت میں کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں، جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے خاموشی، احتجاج اور طنزیہ قہقہے دیکھنے میں آئے۔
ایران سے متعلق گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایران یقین دہانی کرائے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ انہوں نے سابق ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے ایران پر میزائل پروگرام کو تیز کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
خطاب کے دوران احتجاج
امیگریشن کے معاملے پر انہوں نے سرحدی کنٹرول کو امریکی تاریخ کا مضبوط ترین قرار دیا اور غیر قانونی ہجرت میں کمی کا دعویٰ کیا۔ خطاب کے دوران کچھ ڈیموکریٹ ارکان، جن میں الہان عمر اور رشیدہ طلیب شامل تھیں، نے احتجاجاً نعرے بازی کی۔ رکن کانگریس ایل گرین کو ایک بار پھر احتجاجی بینر لہرانے پر ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔
خطاب کے موقع پر کابینہ ارکان، کانگریس کے اراکین اور صدر کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔