شریعت محمدی میں بائیولوجیکل باپ کا کوئی تصور نہیں
نواز طاہر
مختلف الخیال علما اور مفتیان کرام نے متفقہ فیصلہ دیا ہے کہ شریعت محمدی میں ماں اور باپ کی حیثیت واضح اور ہے، جس میں بائیولوجیکل باپ کا کوئی تصور نہیں اور نہ ہی اس بنیاد پر کسی کو نان و نفقہ دینے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنادین کے مطابق درست نہیں۔ مختلف دینی مکاتب فکر کے علما پر مشتمل ملی مجلس شرعی نے یہ رائے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد جاری کی ، جس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بچے کی ولدیت کا تعین بائیولوجیکل بنیاد پر کیا اور باپ کو بچے کا نان و نفقہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ بائیولوجیکل فادر یا حیاتیاتی باپ سے مراد وہ مرد ہوتا ہے، جو اپنا نطفہ (sperm) فراہم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں بچہ پیدا ہوتا ہے۔
یادر ہے کہ چیف جسٹس بھی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کا یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے سامنے آیا تھا اور اس کا ملی مجلس شرعی نے مفصل جائزہ لیا۔ ملی مجلس شرعی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد امین نے بتایا کہ جن مفتیان اور علمائے کرام نے جسٹس شاہد حسن بلال کے تحریر کردہ اس فیصلے کا جائزہ لیا ، ان میں مفتی شاہد عبید صاحب، چیف مفتی جامعہ اشرفیہ مفتی محمد کریم خان، مفتی و پی ایچ ڈی ڈاکٹر و چیئر مین وفاق المدارس الرضویہ، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ و پروفیسر پنجاب یونیورسٹی، مولانا حافظ محمد عمران طحاوی ( درس نظامی و پی ایچ ڈی اسکالر ) ، ڈاکٹر محمد امین ( ایم فل فقه و اصول فقہ سعودی عرب و پی ایچ ڈی اسلامی قانون ) شامل تھے۔ انہوں نے اپنی متفقہ رائے سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس سے پہلے اس طرح کا ایک فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نےبھی دیا تھا اور اس پر بھی ہم نے یہی تبصرہ کیا تھا کہ جب عدالت ایک شخص کو بائیولوجیکل فادر تسلیم کر رہی ہے تو دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے زانی تسلیم کر رہی ہے۔ اس صورت میں شریعت اور پاکستان کے حدود قوانین کے تحت اس شخص کو ایک سو کوڑوں اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں رجم ( سنگساری سے ہلاکت کی سزادی جانی چاہیے۔ کیونکہ اس شخص نے زنا کر کے معاشرے میں جو فساد پھیلا یا ، ان کے مطابق یہ سزا جبری زیادتی پر ہے، جس میں ایک عورت اور اس کے خاندان کو زندہ درگور کر دیا گیا ہوتا ہے۔ دو طرفہ رضا سے حرام کاری کی سزا کوڑوں اور سنگساری کی ہے۔ جبکہ جس کیس میں عدالت نے فیصلہ دیا ہے، اس میں بائیولوجیکل فادر قرار دیئے جانے والے شخص نے اپنی بیوی کی بھتیجی کے ساتھ یہ فعل کیا، جس کے ساتھ نکاح کی بھی اجازت نہیں، بلکہ حرام تھا۔ لہذا یہ زیادہ براہ مکر وہ اور گھناؤ ناعمل ہے۔
علمائے کرام کا کہنا ہے کہ اسلامی شریعت اور فقہ میں بائیولوجیکل فادر کا کوئی ذکر نہیں ہے نہ اس نام کی وہاں کوئی اصطلاح ہے ۔ وہاں یا تو صیح نکاح کی بات ہے یا نکاح کی عدم موجودگی میں زنا کی (خواہ وہ بالرضا ہو یا بالجبر ) سزا کا ذکر ہے۔ پاکستان کے دینی عناصر کو چاہیے کہ اگر حکومت کی توجہ اس طرف نہیں تو وہ اس طرح کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور قانون کے ساتھ شریعت کی تعلیم کا بھی ملک میں انتظام کریں۔ اسلامی شریعت میں کا ٹریننگ کا بھی اہتمام کریں، تا کہ عدلیہ فیصلے اسلامی تعلیمات کے مطابق کر سکے۔
ملی مجلس شرعی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد امین سے جب یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ایسے قبیح عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کی حیثیت کیا ہوگی اور وہ کس کو والد کہے گا اور اس کی کفالت کون کرے گا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ شریعت میں واضح طور پر جائز نکاح پر زور دیا گیا ہے اور زنا کی سختی سے نفی کرتے ہوئے اس کی سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔ سزا کا مقصد ایسے عمل سے روکنا ہے۔ ایسے بچے کی ولدیت کا ذکر نہیں۔ البتہ ایسے بچے کو اسے پیدا کرنے والی پال سکتی ہے۔ اب تو نادرا میں ماں کے ساتھ بچے کی پیدائش کا اندراج بھی ہو سکتا ہے اور اسکول میں داخلہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن سماجی طور پر خاص طور پر ہمارے جیسے مسلم معاشرے میں اس بچے کیلئے بے شمار مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے ہی اور اس سے ملتے جلتے دیگر مسائل کے پیش نظر زنا کی سخت ترین سزا مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ غیر مسلم معاشروں میں اسے مسئلہ نہیں سمجھا جاتا ، اگر چہ مسائل وہاں بھی جنم لیتے ہیں۔ ان جیسے مسائل کا پاکستان میں وہاں کے قوانین کے مطابق نہیں شریعت محمدی کے مطابق فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔