ایران پر امریکی حملہ کتنے دن کی دوری پر- کیا جنگ ٹل جائے گی؟
امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار جہازوں اور دیگر فورسز کی تعیناتی اور ٹرمپ کے الٹی میٹم کے بعد ایران پر حملہ محض چند روز دور تصور کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے دیئے گئے دس روزہ الٹی میٹم کی مدد ختم ہو رہی ہے اور دیگر ممالک کے بعد بھارت نے بھی اپنے شہری ایران سے نکال لیے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے19 فروری کو واشنگٹن میں “بورڈ آف پیس” کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو 10 سے 15 دن کی حتمی مہلت دی۔ ان کے خطاب کے اہم نکات یہ تھے:
- “برا دن آنے والا ہے”: ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ان کی شرائط پر ایٹمی معاہدہ نہ کیا تو تہران کے لیے “بہت برا دن” ہوگا اور “انتہائی ناخوشگوار” (Unfortunate) نتائج بھگتنے ہوں گے۔
- فیصلہ کن وقت: صدر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگلے 10 دنوں میں دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ کیا ہونے والا ہے۔
- فوجی آپشنز: انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف “محدود فوجی کارروائی” (Limited Strikes) کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور امریکی جرنیلوں کی جانب سے مخالفت کی خبریں “فیک نیوز” ہیں۔
ٹرمپ نے منگل 24 فروری کو اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایک بار پھر ایران کا ذکر کیا تاہم یہ بھی کہا کہ وہ سفارتکاری سے معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں۔
جنیوا مذاکرات: آخری امید؟
ایک طرف جنگ کی تیاریاں ہیں تو دوسری طرف سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 26 فروری کو جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا دور ہونے جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے “محتاط امید” ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک ایسا مسودہ تیار کر رہے ہیں جو فوجی کارروائی کو ٹال سکتا ہے۔ تاہم، ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
امریکہ مکمل طور پر یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران اسے اپنا خود مختار حق قرار دیتا ہے۔
امریکی فوجی تعیناتی کی تفصیلات
امریکہ نے 2003 کی عراق جنگ کے بعد خطے میں سب سے بڑی تعداد میں اپنی افواج تعینات کردی ہیں۔
دو بڑے طیارہ بردار بحری بیڑے، USS Abraham Lincoln اور USS Gerald R. Ford، بحیرہ عرب اور خلیج فارس میں پہنچ چکے ہیں۔ ان کے ساتھ درجنوں تباہ کن بحری جہاز اور کروزر بھی موجود ہیں۔
اسرائیل کے ‘اوودا’ (Ovda) ایئر بیس پر 12 جدید ترین F-22 لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 50 سے زائد اضافی جیٹ طیارے اور فیول ٹینکرز خطے میں پہنچائے گئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ تعیناتی کسی بھی وقت ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
ایران کا ردعمل اور علاقائی صورتحال
دوسری جانب ایران نے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی حملے کا جواب “سخت اور وسیع” پیمانے پر دیا جائے گا۔
ایک اہم موڑ یہ آیا ہے کہ برطانیہ نے امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران ایٹم بم بنانے سے صرف ایک ہفتہ دور ہے، جس کی وجہ سے حملے کا امکان ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔
دوسرے ممالک کے شہریوں کا انخلا
صورت حال کو دیکھتے ہوئے بھارت، آسٹریلیا، پولینڈ اور سویڈن سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ بین الاقوامی ایئر لائنز کی جانب سے پروازوں کی منسوخی اور فضائی حدود کی ممکنہ بندش کے باعث انخلا کے مواقع تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو ترکیہ اور آرمینیا کے زمینی راستے استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگلے ایک ہفتے کے دوران خطے کی صورتحال انتہائی غیر یقینی رہے گی، جس میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور سفری رابطوں کے مکمل منقطع ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے۔