اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ نے ایران سے کشیدگی کا راز بتادیا

February 25, 2026 · امت خاص

 

گذشتہ سال مارچ میں، امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔لیکن اس کے باوجود جون میں، ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کر دیے۔آج، امریکہ ایران کی جوہری عزائم پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔اس حقیقت کے باوجود کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ جون کے فضائی حملوں نے ایران کے پروگرام کو مکمل طور پر مٹا(Obliterated) دیا تھا۔

 

امریکی میڈیاکے مطابق ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے شاذ و نادر ہی فوجی طاقت کے استعمال کے لیے مستقل مزاج منطق فراہم کی ہے۔ حالیہ دنوں میں، انتظامیہ نے تہران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے ممکنہ جوہری خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے فوجی طاقت کے استعمال کا اشارہ دیا ہے۔

 

نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے فاکس نیوز کو بتایاکہ ہمارا بنیادی مفاد یہ ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔ٹرمپ نے بھی گزشتہ ہفتے کہا کہ وہ (ایرانی)جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے؛ یہ بہت سادہ سی بات ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے ایران کے جوہری خطرے کو قریبی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بم بنانے والے مواد کی تیاری سے شاید صرف ایک ہفتہ دور ہیں۔لیکن اگر ایران واقعی جوہری بم بنانے کے اتنے قریب ہے، تو یہ ایک معجزاتی بحالی ہوگی،بشرطیکہ ٹرمپ کے دعووں پر یقین کیا جائے۔ آٹھ ماہ قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام’’نیست و نابود‘‘ہو چکا ہے۔

 

21 جون کو حملے کے دن انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی جوہری افزودگی کی اہم تنصیبات مکمل طور پر مٹ چکی ہیں۔اگرچہ یہ دعویٰ عجیب تھا کیونکہ نقصانات کی حتمی رپورٹ آنے میں وقت لگتا ہے، لیکن ٹرمپ اس پر قائم رہے۔وزیردفاع پیٹ ہیگستھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ نہ صرف تنصیبات بلکہ ایران کے جوہری عزائم بھی ختم ہو چکے ہیں۔تاہم، سی این این اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق، امریکی انٹیلی جینس نے پایا کہ ان حملوں نے ایران کے پروگرام کے بنیادی اجزاء کو تباہ نہیں کیا تھا اور اس سے صرف چند ماہ کی تاخیر ہوئی تھی۔

ٹرمپ جولائی سے فروری تک مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ انہوں نے ایران کی جوہری صلاحیت،امیدوں،اور افزودگی کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

Obliterate” کا مطلب ہے کسی چیز کو جڑ سے مٹا دینا، جسے چند ماہ میں دوبارہ بحال نہ کیا جا سکے۔لیکن آج ٹرمپ کے مقاصد بدل چکے ہیں۔ اب یہ ماضی کے مشن کی کامیابی بتانے کے بجائے، مستقبل کے مشن کے لیے جواز فراہم کرنے کے بارے میں ہے۔ اب ان کے لیے یہ کہنا فائدہ مند نہیں کہ پہلا مشن مکمل کامیاب رہا تھا۔

یہ ایک جانی پہچانی کہانی ہے۔ یہ انتظامیہ فوجی مداخلت کا کیس تیار کرنے کے لیے وہی کچھ کہتی ہے جو اس وقت اس کے مفاد میں ہو، چاہے وہ حقیقت سے مطابقت رکھتا ہو یا نہیں۔ جب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ سے پوچھا گیا کہ اگر پروگرام تباہ ہو چکا تھا تو دوبارہ حملے کی ضرورت کیوں ہے، تو انہوں نے جواب دیا: ایران کے خلاف حملے کے لیے بہت سی وجوہات اور دلائل دیے جا سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ،واشنگٹن انتظامیہ اب بھی کسی ایسی منطق کی تلاش میں ہے جو ان کے اپنے ہی پرانے بیانات سے متصادم نہ ہو۔

 

بالآخر سالانہ صدارتی خطاب میں یہ راز کھل گیا۔صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہاہے کہ امریکی سرزمین جلد ایرانی میزائلوں کی پہنچ میں ہوگی۔ اپنے سالانہ خطاب اسٹیٹ آف دی یونین کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ سال امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، لیکن ان کا ماننا ہے کہ ایران اب دوبارہ اپنا جوہری پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ایسے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

 

2003 کی عراق جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں طیاروں اور جنگی جہازوں کی سب سے بڑی تعیناتی کے دوران، ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران ایسے بیلسٹک میزائل بنا رہا ہے جو جلد ہی امریکہ تک پہنچ سکیں گے۔ ٹرمپ نے کہاکہ وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے اب تک وہ الفاظ نہیں سنے کہ ہم کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھیں گے۔

 

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نےٹرمپ کا براہِ راست نام لیے بغیر ان کے دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فار م ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور جنوری کی بے چینی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے جو کچھ بھی الزامات لگائے جا رہے ہیں، وہ محض بڑے جھوٹ کی تکرار ہیں۔ایرانی ترجمان نے ان تمام دعووں کو مسترد کیا جو امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کو ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

 

مارکو روبیو نے صدارتی خطاب سے پہلے اعلیٰ امریکی قانون سازوںگینگ آف ایٹ (دونوں جماعتوں کے سینئر ترین قانون سازوں) کو خفیہ انٹیلی جنس معاملات پر بریفنگ دی۔ یہ بریفنگ ایک ایسے وقت میں ہوئی جب دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑا USS Gerald Ford خطے میں پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اب ایران پر کسی بھی وقت حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر نے بریفنگ کے بعد کہا کہ صورتحال سنجیدہ ہے، ڈیموکریٹ جم ہائمز نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ابھی تک ایک بھی ٹھوس وجہ نہیں سنی کہ مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کیوں شروع کی جائے۔

 

ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میںمذاکرات جمعرات کو طے ہیں۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا کہ ایران جلد از جلد معاہدے کے لیے تیار ہے، لیکن یہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود ہوں گے، جو شاید وائٹ ہاؤس کے لیے کافی نہ ہو۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کو 10 دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا توانتہائی بری چیزیں ہوں گی۔

 

رپورٹس کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ سے امریکہ کے دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ کا فیصلہ ہوا تو یہ ایک ایسی جنگ ہوگی جو آسانی سے جیتی جا سکے گی۔

 

ٹرمپ نے ابھی تک حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، ان کا فیصلہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج پر منحصر ہے، جہاں امریکی وفد کی قیادت ان کے قریبی دوست اسٹیو وٹکاف اور داماد جیرڈ کشنر کریں گے۔
تجزیہ کار چارلس والڈ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایک سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔ اگر معاہدہ نہیں ہوتا اور ٹرمپ کوئی کارروائی نہیں کرتے، تو یہ ان کی ساکھ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔