سحری میں شہریوں کوجگانے کا سلسلہ پیغمبراسلام کے حکم پر شروع ہوا تھا
ماہ رمضان میں صدیوں پرانی روایات اور موسمی پیشے دوبارہ جی اٹھتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں اور دل کش ”مسحراتی”(سحری میں جگانے والا)ہے، جو فجر سے پہلے گلیوں میں گھوم کر ڈھول بجاتا، نعت و منقبت پڑھتا یا پکار لگاتا ہے تاکہ روزہ داروں کو سحری کے لیے بیدار کر سکے۔ یہ عمل پورے 30دن جاری رہتا ہے اور رمضان کی راتوں میں ایک انوکھی رونق اور روحانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق اس کی بنیاد عہدِ نبوی میں ملتی ہے۔اس عمل کا آغاز ابتدائے اسلام میں سب سے پہلے کرنے والے شخص موذن رسول حضرت بلال بن رباح(بلال حبشی) رضی اللہ تعالی عنہ تھے ۔وہ مسلمانوں کے ابتدائی مسحراتی تھے۔انہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کو سحری کے لیے بیدار کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
روایت ہے کہ بلال بن رباح اور عبد اللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنھما سحری کی اذان دیتے تھے۔ پہلے بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے کہ لوگ اٹھ کر سحری کھانے کی تیاری کریں ۔ اس کے بعد عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ سحری ختم کردینے کے وقت پر اذان دیتے تھے۔
سب سے پہلے اذان کے علاوہ سحری کے لئے لوگوں کو جگانے کے لئے باقاعدہ ندا لگانے والی شخصیت کا نام عنبس ابن اسحاق کا ہے، وہ الفستاد کے العسکر مقام سے پیدل عمرو بن العاص جامع مسجد جایا کرتے تھے، اور اس دوران راستے بھر میں سحری کے لئے لوگوں کو جگاتے اور صدا لگاتے تھے کہ اللہ کے بندو سحری کرو، سحری میں برکت ہے۔اس کے بعد سحری میں جگانے کے عمل نے باقاعدہ ایک تہذیبی شکل اختیار کرلی، اور صدیوں سے تمام ہی مسلمان ملکوں میں اس کا رواج مختلف طریقوں سے رائج رہا ہے، سعودی عرب میں سحری کے لئے جگانے والا ڈنڈے سے دروازہ کھٹکھٹا کر سحری کیلئے جگاتے تھے۔
سحری کے لئے جگانے والوں نے مصر سے طبلے کا استعمال شروع کیا۔ مصر، اردن، فلسطین حتی ٰکہ سعودی عرب کے کچھ حصوں اور بالخصوص ایشیائی ممالک میں ڈھول کا استعمال بھی سحری میں جگانے کے لئے ہوتا رہا ہے، مختلف عرب خطوں میں مختلف اشعار و نغمے بھی استعمال ہوتے رہے ہیں، جیسے مدینہ منورہ میں سحری جگانے والا گلی گلی گھومتے یہ صدا لگاتے تھے ۔ترجمہ: اے سونے والے اٹھ جائو، سحری کا وقت آچکا ہے، سونے والا اٹھ جا۔
اس روایت کی موجودہ شکل عباسی اور فاطمی دور میں پروان چڑھی۔ مصر میں مسحراتیوں کے پکارنے کے انداز بہت مشہور رہے ہیں، جیسے “اے سونے والو! اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرو، سحری کا وقت ہے اے اللہ کے بندو!”۔ شام میں انہیں ”الموقظ”اور مراکش میں”الطبال”کہا جاتا ہے۔ محقق احمد عامر کے مطابق فاطمی سلطان الحاکم بمر اللہ کے دور میں سپاہی گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر لوگوں کو جگاتے تھے، جو بعد میں ڈھول اور دف کی شکل اختیار کر گیا۔
ریاستی تشکیل میں المسحراتی کا ادارہ مملوکوں کے عہد حکومت میں سب سے پہلے سلطان ظاہر بیبرس نے متعارف کروایا، انہوں نے سحری جگانے والے رواج کو سرکاری سطح پر نوجوانوں کو نوکریاں دے کر اس کام پر مامور کیا تھا۔ فاطمی دور الحاکم بامر اللہ نے سحری میں جگانے کا کام افواج کی ذمہ داری میں دیا تھا۔
مصر کے گورنر عتبہ بن اسحاق کو پہلا شخص سمجھا جاتا ہے جنہوں نے 832 ہجری میں المسحراتی کا پیشہ اپنایا جب وہ الفسطاط شہر سے عمرو بن العاص مسجد تک پیدل جاتے تو پکار کر کہتے۔”اے اللہ کے بندو سحری کھائو، کیونکہ یہ بابرکت وقت ہے”۔عتبہ بن اسحاق خود پیدل چل کر پکار لگاتے تھے، جس سے یہ پیشہ عوامی مقبولیت کا حامل ہوا۔
ممالیک کے دور میں “ابن نقطہ” تھا جو المسحراتیہ کا نمایاں نام تھا۔ اس وقت المسحراتی سلطان الناصر محمد کے ساتھ خاص تھا۔ اس دور میں المسحراتی کے پیشے کو ترقی دی گئی اور ان لوگوں نے چھڑی سے ڈھول پیٹنے کی مشق کی۔ اس ڈھول کو ”باز” کہا جاتا تھا اور وہ اسے اتنی زوردار اور اونچی آواز میں پیٹتے تھے جو پوری گلی کو جگا دیتے تھے۔ اس کے بعد اس پیشہ نے مزید ترقی کی اور المسحراتی شروع ہوا جس میں مشہور نظمیں اور ایک خاص زجل گا کر سننے والوں کو محظوظ کرنا شروع کیا گیا۔
”ابن نقطہ” سحری جگانے والوں کے سردار تھے اور سلطان ناصر محمد کے خاص عامل تھے۔ وقت کے ساتھ اس میں لوک اشعار بھی شامل ہو گئے۔ اجرت پہلے غلے یا فصل کی صورت میں ہوتی تھی، مگر غریبوں سے کچھ بھی نہ لیتے تھے۔
برصغیر میں مغلیہ دور کے بعد یہ روایت بہت مقبول ہوئی۔ مسحراتی ڈھول بجاتے، نعت یا اشعار پڑھتے اور بعض اوقات گھروں کے افراد کے نام لے کر جگاتے تھے۔ اس سے نہ صرف بروقت بیداری ممکن ہوتی تھی بلکہ محلہ داری اور سماجی ہم آہنگی بھی بڑھتی تھی۔
پاکستانی شہروں اور قصبوں میں رمضان کی سحریوں میں ڈھول بجا کر لوگوں کو اٹھانے والے اسے مذہبی عمل کے ساتھ معاشی آسودگی کا ذریعہ بھی سمجھتے تھے۔ ایسے بیشتر افراد شادی بیاہ کے موقع پر ڈھول بجانے والوں سے تعلق رکھتے تھے۔ سحری کے وقت خواتین اور بچے کھڑکیوں اور دروازوں پر کھڑے ہو کر انہیں دیکھتے تھے۔ رمضان کے بعد عید پر یہ ڈھولچی گھروں جا کر عیدی کی صورت میں مالی مدد وصول کرتے تھے۔
آج ٹیکنالوجی اور موبائل الارم کی وجہ سے یہ پیشہ معدومیت کے قریب ہے۔ لوگ اب راتوں کو کم سوتے ہیں اور الارم سحری کا کام کر لیتا ہے۔ اس کے باوجود مصر اور دیگر عرب ممالک میں مسحراتی آج بھی موجود ہیں، جہاں ان کا مقصد محض جگانا نہیں بلکہ رمضان کی خوشیوں کا اظہار اور قدیم روایات کو زندہ رکھنا ہے۔
ترکیہ کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ایک وڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں روایتی مسحراتی کی بجائے ایک موسیقی بینڈ ڈھول اور بگل بجا کر نوشہرنامی شہر کی گلیوں میں لوگوں کو سحری کے لیے جگا رہا ہے۔ جمعہ کی آدھی رات کے بعد یہ بینڈ گشت کرتا ہے، جس سے گھروں کی روشنیاں جل اٹھتی ہیں اور کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ بینڈ کے ارکان روایتی لباس میں ہوتے ہیں اور ان کی جڑیں سلطنت عثمانیہ کے دور کے فوجی موسیقی دستے ”مہتران”سے ملتی ہیں، جو فوج میں جوش پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اب یہ ایک ثقافتی شناخت بن چکا ہے۔ نوشہر کی بلدیہ نے رمضان کی راتوں کو رونق دینے کے لیے اس بینڈ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ پہلی رات کے گشت میں بینڈ کئی عمارتوں کے سامنے رک کر مبارکباد پیش کرتا ہے اور شہری خوش آمدید کہنے اور ویڈیوز بنانے کے لیے باہر نکل آتے ہیں۔ بلدیہ کا ارادہ ہے کہ ہر ہفتے کے اختتام پر شہر کے دیگر محلوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
2026ء سے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں اپریل 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد تقریبا تین سال کی غیر حاضری کے بعد رمضان کی رونقیں واپس آئی ہیں۔ نہ صرف اجتماعی افطاربلکہ سڑکوں پر مسحراتی بھی لوٹ آئے۔ ڈھول کی تھاپ اور نظمیں، جو گولیوں کی گونج میں خاموش ہو گئی تھیں، اب دوبارہ گونج رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مختلف علاقوں میں سحری کے نغموں کی واپسی کی خوشی نظر آ رہی ہے۔