اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں کاغذی جہاز اڑا دیے
لاہور : پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت مچھلی منڈی بن گیا جب اپوزیشن ارکان نے صوبائی حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے مالیت کے طیارے کی خریداری کے خلاف انوکھا احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان نے نہ صرف شدید نعرے بازی کی بلکہ کاغذ کے جہاز بنا کر ایوان میں اڑا دیے، جس سے ایوان کی کارروائی میں شدید خلل پڑا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے مائیکس پر کاغذ کے جہاز نصب کر دیے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ایوان کاغذی جہازوں کی زد میں آگیا۔ اپوزیشن کا موقف تھا کہ ایک طرف غریب عوام مہنگائی تلے دبے ہوئے ہیں اور دوسری طرف حکومت اربوں روپے کے لگژری طیارے خرید رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے تیکھے سوالات حکومتی اتحادی ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ عابد نے بھی اس معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر جنوبی پنجاب کے کسی مہمان نے دورہ کرنا ہو تو کیا اسے یہ 11 ارب والا جہاز مل جائے گا؟ کیا یہ شاہانہ اخراجات صرف مخصوص طبقے کے لیے ہیں؟
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ان سوالات کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ جہاز کی خریداری قانونی تقاضوں کے مطابق ہے اور یہ “ایئر پنجاب” کے منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری سندھ حکومت کا جہاز استعمال کر سکتے ہیں، تو یہ پنجاب حکومت کا جہاز ہے، اسے جیسے مرضی استعمال کیا جائے۔”
شور شرابے اور کاغذی جہازوں کی اڑان کے باعث ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔ سپیکر کی جانب سے ارکان کو خاموش کرانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں، جس کے بعد ایوان کی کارروائی میں تلخی برقرار رہی۔ اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ عوامی ٹیکس کے پیسوں کے اس ضیاع پر احتجاج جاری رکھیں گے۔