ایرانی اور اتحادی رہنماؤں کو 6 برس میں کیسے نشانہ بنایا گیا

سلسلہ قاسم سلیمانی کی موت سے شروع ہوا- ایران پر پابندیوں سے بھی دباؤ بڑھایا گیا

               
March 1, 2026 · امت خاص, بام دنیا

قاسم سلیمانی، اسماعیل ہنیہ، حسن نصراللہ

آیت اللہ علی خامنہ ایران میں شہید ہونے والے سب سے بڑے لیڈر ہیں۔ تاہم ان کی شہادت سے پہلے چھ برسوں میں ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کے رہنماؤں کو ایک ایک کرکے نشانہ بنایا گیا۔

اس صورت حال کی بنیاد جنوری 2020 میں اس وقت پڑی جب ایرانی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی امریکی حملے میں شہید ہوئے۔ یہ کارروائی اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست حکم پر کی گئی تھی، جس کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اس کے بعد ایران سے وابستہ اہم شخصیات کو مختلف ممالک میں نشانہ بنایا گیا۔ ان میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی تہران میں شہادت اور لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔ ان واقعات نے خطے میں ایران کے اثر و رسوخ اور سلامتی کی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

دوسری جانب ایران کو اندرونِ ملک بھی شدید معاشی مسائل کا سامنا رہا۔ ماہرین کے مطابق ان مشکلات کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی پابندیاں تھیں، جنہوں نے ملکی معیشت کو دباؤ میں رکھا۔ خاص طور پر اُس وقت حالات مزید خراب ہوئے جب صدر ٹرمپ نے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے، یعنی Joint Comprehensive Plan of Action (جے سی پی او اے) سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی۔

اس فیصلے کے بعد ایران پر پابندیوں میں اضافہ ہوا، جس سے معیشت پر مزید دباؤ پڑا اور داخلی سطح پر بھی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرونی حملوں، اہم رہنماؤں کی ہلاکتوں اور معاشی دباؤ کے امتزاج نے ایران کی قیادت کو مسلسل چیلنجز سے دوچار رکھا، جس کا اختتام ایک ایسے واقعے پر ہوا جسے ایرانی تاریخ میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔