اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خامنہ ای کی روح کے لیے دعا گو ہیں، اللہ ایرانی قوم کو صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘پر اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ شریک ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہیں، پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر بھی تشویش کا اظہار کرتا ہے ، سربراہان مملکت کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی ایرانی عوام کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت اور استقامت عطا فرمائے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہم سید علی خامنہ ای کی روح کے لیے دعا گو ہیں، اللہ پاک ایرانی عوام کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پاکستان کے اندر احتجاج کو شدت میں بدلنا دشمن کو فائدہ پہنچائیگا، خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایران پر حالیہ حملے انتہائی افسوسناک ہیں اور ہمیں اس پر دلی رنج ہے۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ہر ممکن سفارتی اور اخلاقی طریقے سے ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی پاکستان نے واضح طور پر ایران کے خلاف حملے کی مذمت کی ہے۔
خواجہ آصف نے پاکستان کی مذہبی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں اگر ہم اپنے ملک کے اندر احتجاج کو شدت میں بدلیں یا قانون کو ہاتھ میں لیں تو یہ دشمن کے منصوبوں کو فائدہ دے گا۔انہوں نے کہاکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں، احتجاج کو پرامن رکھیں اور ملک کے اندر کسی بھی قسم کی بدامنی یا نقصان سے بچیں۔
ان کے مطابق قومی اتحاد اور استحکام ہی اس وقت پاکستان کی اصل طاقت ہے۔واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔
دو سری جانب ایرانی سفیر نے کہاہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے ساتھ کھڑے ہونے والے چند ہی ممالک تھے اور ان تین ممالک میں ایک پاکستان تھا۔
اقوام متحدہ نے ایرانی سفیر نے خاص طور پر چین، پاکستان اور روس کا شکریہ ادا کیا۔ مندوب کا کہنا تھا کہ ان ممالک نے حملوں کی مذمت میں اصولی مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی سفیر نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کے کچھ اراکین نے ایران کے خلاف جارحیت کو نظر انداز کردیا۔