صرف پانچ طلبہ اور ان کیلئے پانچ استاد، پنجاب کا انوکھا سرکاری کالج

بھوت بنگلہ بن گیا۔لائبریری میں عظیم کتابیں پڑی ہیں ،کوئی پڑھنے والا نہیں۔یہاں کوئی چوکیدار نہیں

               
March 2, 2026 · امت خاص

گورنمنٹ سرسید کالج کٹاس، چکوال

 

1958 میں مرحوم بریگیڈیئر گلزار احمد جنجوعہ کی جانب سے ایک انگلش میڈیم سکول کے طور پر قائم کیا گیاگورنمنٹ سر سید ایسوسی ایٹ کالج کٹاس، قدیم کٹاس راج سے محض چند گز کے فاصلے پر چوآ سیدن شاہ،کلر کہار روڈ پر واقع ہے۔ اس کے بانی نے اسےسر سید انٹرمیڈیٹ کالج علی گڑھ جدیدکا نام دیا تھا۔

 

کالج کے مرکزی دروازے پر انٹرمیڈیٹ کی کلاسوں میں داخلے کا اعلان کرنے والا ایک بینر آنے والوں کا استقبال کرتا ہے۔ تاہم، مین گیٹ پر کسی بھی نئے آنے والے کو خوش آمدید کہنے کے لیے کوئی موجود نہیں کیونکہ وہاں کوئی چوکیدار نہیں ۔ جب اس نمائندے نے 19 فروری کو صبح9 بج کر 14بجے کالج میں قدم رکھا تو صحن میں کرسی پر بیٹھے ایک ٹیچر (کالج ٹیچنگ انٹرن – CTI، جسے محض ایک تعلیمی سیشن کے لیے بھرتی کیا گیا ) دو طلبہ کو پڑھا رہے تھے۔

 

قریبی گاؤں دلائل پور سے تعلق رکھنے والے یہ جڑواں بھائی ایک ہی کتاب پر گزارا کر رہے تھے۔ چند منٹ بعد ایک تیسرا طالب علم بھی شامل ہو گیا، جس سے فرسٹ ایئر کی کلاس کی کل تعداد تین ہو گئی، کیونکہ دو دیگر طلبہ شاذ و نادر ہی آتے ہیں۔ ان تین طلبہ اور ان کے استاد محمد طیب کے علاوہ کالج میں موجود چوتھا شخص فاروق مسیح تھا، جو اکیلا ہی خاکروب، نائب قاصد اور یہاں تک کہ کلرک کے فرائض بھی سرانجام دیتا ہے۔

 

کلرک کا دفتر ویران پڑا ہے کیونکہ کالج میں ایک بھی کلرک تعینات نہیں، پرنسپل کے دفتر کا حال بھی ایسا ہی ہے کیونکہ وہ بھی دیگر دو مستقل لیکچررز اور ایک CTI کی طرح غائب تھے۔

 

لائبریری کی تصویر تو اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ لوہے کی الماریوں میں رکھی ہزاروں کتابیں دھول چاٹ رہی ہیں اور چھپکلیوں و چوہوں کی غلاظت سے بھری ہوئی ہیں۔ کالج سے محض 4 کلومیٹر دور رہنے والی مخصوص نشست پر رکنِ صوبائی اسمبلی (MPA) مہوش سلطانہ نے خبردار کیا کہ کوئی بھی کتاب چیک کرتے ہوئے براہِ کرم محتاط رہیں کیونکہ ان کے پیچھے سانپ چھپا ہو سکتا ہے۔

 

اگرچہ یہ کتابیں مکڑی کے جالوں تلے دبی ہوئی ہیں، لیکن ان دہائیوں پرانے ذخیرے کو جمع کرنے والوں کے ذوق کی داد دینی پڑتی ہے۔ یہاں بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال پر درجنوں کتابیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مذہب، زراعت، ریاضی، معاشیات، تاریخ اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی کافی مواد دستیاب ہے۔ لیو ٹالسٹائی کی جنگ اور امن (War and Peace)، روڈیارڈ کپلنگ کی کم(Kim)، اگاتھا کرسٹی کی ڈیتھ کمز ایز دی اینڈ، ایملی برونٹے کی ودرنگ ہائٹس اور اردو کلاسیکی ادب جیسے رتن ناتھ دھر سرشار کی افسانہ آزاداور محمد حسین جاہ کی طلسم ہوشربا ان بوسیدہ الماریوں میں دم توڑ رہے ہیں۔

 

1970 میں کالج سے وابستہ ہونے والے پروفیسر محمد ریاض نےبتایاکہ یہ سکول غالباً 1958 میں کٹاس راج کے سامنے ایک نجی ادارے کے طور پر شروع ہوا تھا اور بعد میں اسے انٹرمیڈیٹ کالج میں تبدیل کر دیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایک کالج فنکشن کے دوران قریبی گاؤں ڈنڈوت کے معزز راجہ محمد افسر نے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے نئی عمارت کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ موجودہ عمارت اصل سکول کی عمارت سے چند گز کے فاصلے پر بنائی گئی تھی،پرانی عمارت کو اساتذہ کے ہاسٹل میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اب اس جگہ ہندو یاتریوں کے لیے رہائشی بلاکس موجود ہیں۔

 

کالج کے پہلے پرنسپل کھیوڑہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر صوفی کرم الٰہی تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں سابق وائس چیف آف آرمی اسٹاف اور پنجاب کے سابق گورنر جنرل سوار خان نے 28 مئی 1984 کوکرم الٰہی ہال کا افتتاح کیا تھا۔ دیگر کئی تعلیمی اداروں کی طرح، یہ کالج بھی ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسی کی زد میں آیا اور اسے حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

 

ایک سابق پروفیسر کا کہناہےکہ اساتذہ اور یکے بعد دیگرے آنے والے پرنسپلز اس ادارے کو چلانے میں ناکام رہے کیونکہ انہوں نے وہ لگن اور عزم نہیں دکھایا جو ماضی کے اساتذہ کا خاصہ تھا، حکومت بھی مطلوبہ تعداد میں اساتذہ تعینات کرنے میں ناکام رہی۔

 

پرنسپل راجہ سہیل عمران نےکہاکہ میں طلبہ کو کالج کی طرف راغب کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس ادارے کو فیڈ کرنے والے تین ہائی سکولوں میں داخلوں کی شرح خود بہت کم ہے۔

ایم پی اے ملک تنویر اسلم نے کالج کو بند کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ یہ حکومت پر بوجھ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ تحصیل چوآ سیدن شاہ میں لڑکوں کے لیے ڈگری کالج کی ضرورت تھی اور میں نے اسے بنوایا۔ اب اسے چلانا فیکلٹی ممبران اور مقامی لوگوں کی ذمہ داری ہے۔