پاکستان کی ڈرگ لیبارٹر ی کوٹیسٹنگ کے لیے عالمی منظوری حاصل
یہ کامیابی ڈبلیو ایچ او کے میچیورٹی لیول تھری سرٹیفیکیشن کے حصول کی جانب اہم قدم ہے
تصویر: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کو ادویات کے شعبے میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی سنٹرل ڈرگ لیبارٹری کو عالمی ادارہ صحت کی پری کوالیفیکیشن حاصل ہو گئی ہے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ اس پیش رفت کے بعد ملک میں ادویات کی عالمی معیار کے مطابق ٹیسٹنگ ممکن ہو گئی ہے، اس سے قبل نمونے بیرون ملک بھجوائے جاتے تھے۔ اب نہ صرف مقامی بلکہ برآمدی ادویات کی جانچ بھی پاکستان میں ہی ہو سکے گی جس سے فارماسیوٹیکل سیکٹر کو عالمی سطح پر فروغ ملے گا۔
وزیر صحت کے مطابق یہ کامیابی ڈبلیو ایچ او کے میچیورٹی لیول تھری سرٹیفیکیشن کے حصول کی جانب اہم قدم ہے، جس کے بعد پاکستان 150 ممالک تک ادویات برآمد کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان 51 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے تاہم سرٹیفیکیشن کے مسائل کے باعث مزید منڈیوں تک رسائی محدود ہے۔
مصطفیٰ کمال نے ویکسین پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 13 بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں جن کے اخراجات کا 51 فیصد حکومت جبکہ 49 فیصد بیرونی امداد سے پورا کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2030 کے بعد بیرونی امداد ختم ہونے پر ویکسینز کی خریداری حکومت کو خود کرنا ہوگی جس سے اخراجات 340 ملین ڈالر سے بڑھ کر1اعشاریہ 2ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت کاروبار میں آسانی اور صحت کے نظام کی بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور یہ کامیابی ملک کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔