اسرائیلی وزیر اتمار بین گویر نے امریکا ایران معاہدہ مسترد کر دیا
اسرائیل کو اس تنظیم کے مکمل خاتمے سے کم کسی بھی حل پر راضی نہیں ہونا چاہیے۔
اسرائیلی وزیر اتمار بین گویر نے امریکا ایران معاہدہ مسترد کر دیا
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر اتمار بین گویر نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مبینہ جنگ بندی اور امن معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل پر لاگو نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے اسرائیل کی سکیورٹی صورتحال میں کوئی بہتری آتی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے، اس لیے یہ اس کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال اسرائیل کے بنیادی سکیورٹی خدشات کو حل کرنے میں ناکام ہے اور خطے میں خطرات بدستور موجود ہیں۔
اتمار بین گویر نے لبنان میں سرگرم حزب اللہ کے حوالے سے سخت موقف دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس تنظیم کے مکمل خاتمے سے کم کسی بھی حل پر راضی نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ عسکری کارروائیوں کے دوران جن علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا ہے وہاں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہونا چاہیے، جبکہ ان علاقوں میں موجود عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور خطے میں جنگ بندی کی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسرائیلی حکومت کے اندر مختلف موقف سامنے آ رہے ہیں، اور ایران و لبنان سے متعلق پالیسی پر اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں اگر سفارتی پیش رفت جاری رہی۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مختلف محاذوں پر جنگ بندی کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔