ایرانی میزائلوں سے خلیجی ریاستوں کابرانڈ جیسا تاثر خراب ۔چمکتی اسکائی لائنز داغدار

ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ مشرق وسطی ٰمیں ایک نیا نمونہ ہے۔ماہرین

               
March 2, 2026 · امت خاص

 

 

 

اپنی ”سکائی لائنز” یعنی بلندوبالا پرشکوہ عمارتوں کے مجموعی منظر کے لیے مشہورخلیج کا خطہ ایرانی میزائلوں اور حملہ آورڈرونزکی یلغار سے ایسے غیر متوقع حالات کا سامنا کررہاہے جس کا تصورماضی میں نہ ہونے کے برابرتھا۔

 

نیویارک یونیورسٹی ابوظہبی میں مشرق وسطی کی سیاست کی پروفیسر مونیکا مارکس کے مطابق یہاں کے لوگوں اور سیاسی قیادت کے لیے، منامہ، دوحہ اور دبئی میں بمباری دیکھنا اتنا ہی عجیب اور ناقابل تصور ہے جتنا کہ شارلٹ،سیاٹل یا میامی میں بمباری کا دیکھنا امریکیوں کے لیے ہوگا۔

 

یہ حملے اس وقت ہوئے جب ایران نے امریکہ اسرائیل حملے کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی شروع کی۔

 

خلیجی ریاستوں کاانفراسٹرکچر جو اب تک ان کی روشن زندگی کی طاقت چلا آ رہا تھا،اب ان کے لیے ڈرائوناخواب ثابت ہورہاہے۔بجلی اور پانی کی سہولیات،جدید میزائلوں کے سامنے انتہائی کمزور انفراسٹرکچر میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ایئر کنڈیشننگ اور پانی کی صفائی کے بغیر، جھلسا دینے والے گرم اور خشک خلیجی ممالک بنیادی طور پر ناقابل رہائش،اورتوانائی کے بنیادی ڈھانچے کے بغیر، وہ غیرمفید ہیں۔

 

ماہرین کا کہناہے کہ تاہم اصل خطرہ جسمانی نہیں بلکہ ان کی ساکھ ہے۔ ان کی چمکتی ہوئی اسکائی لائنز کے ساتھ اب میزائل حملوں سے داغدار ہو گئی ہیں۔ان کی نرم طاقت کو نقصان ہوگا۔سرمایہ کاری اور سیاحت کے لیے مستحکم ،پناہ گاہوں کے طورپر معروف خطے کا ”برانڈ ”جیسا تاثر مجروح ہوگیاہے۔

 

تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ مشرق وسطی ٰمیں ایک نیا نمونہ ہے، یا ایک بہت پرانے،جنگ وجدل یا عدم استحکا م کے نمونے کی طرف لوٹنا ہے۔یہ ڈس انفارمیشن ،پراکسی وار وغیرہ سے گرے زون وارفیئر نہیں بلکہ ریاستوں پر ایک حقیقی ریاستی جنگ ہے۔

 

ایران نے خلیجی شہروں میں متعدد شہری اور تجارتی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، بحرین کی وزارت نے کہا کہ ایک روکے گئے میزائل کے گرنے والے ملبے سے بندرگاہی شہر سلمان میں ایک غیر ملکی بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی جس سے ایک مزدور ہلاک اور دو دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ہفتے کے روز سے پورے خلیج میں ایئرپورٹس اور بندرگاہوں سے لے کر رہائشی عمارات اور ہوٹلز تک شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

 

ایران پر امریکی اسرائیلی حملے پیر کو تیسرے دن بھی جاری رہے،تہران نے کہا کہ وہ خطے میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ تہران اپنے خلیجی پڑوسیوں کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتا،انہوں نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ تہران کو خلیج فارس کے دوسری طرف کے ممالک سے کوئی مسئلہ نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران ان سب کے ساتھ دوستانہ اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو برقرار رکھتا ہے، جسے وہ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔عراقچی نے کہا کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ دراصل اپنے دفاع اور ہمارے خلاف امریکی جارحیت کا جوابی اقدام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم خلیج فارس میں اپنے بھائیوں پر حملہ نہیں کر رہے، ہم اپنے پڑوسیوں پر حملہ نہیں کر رہے بلکہ ہم امریکی اہداف پر حملہ کر رہے ہیں۔