کویت میں 6 امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر سی این این نے ٹرمپ کے پول کھول دیئے
فضائی دفاعی نظام کے باوجو دایک گولہ (میزائل یا ڈرون) اندر جاگرنے میں کامیاب رہا
اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق کویت کی سویلین بندرگاہ پر قائم عارضی آپریشنز سینٹر پر ایران کے براہ راست حملے میں امریکی فوجیوں کی اولین ہلاکتیں ہوئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ شعیبہ بندرگاہ پر ہونے والے اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے، کیونکہ مزید دو لاپتہ اہلکاروں کی باقیات برآمد کر لی گئی ہیں۔
اس سے قبل وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ جس حملے میں فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، اس نے ایک قلعہ بند ٹیکٹیکل آپریشن سینٹرکو نشانہ بنایا، لیکن فضائی دفاعی نظام کے باوجو دایک گولہ (میزائل یا ڈرون) اندر گرنے میں کامیاب رہا۔ یہ ایک مشتبہ ڈرون حملہ تھا۔
امریکی نشریاتی ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے فوراً بعد عمارت کے وسط پر براہ راست حملہ ہوا، جسے ایک پل وائیڈ ٹریلر (بڑی موبائل عمارت) کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس میں دفاتر تھے۔ ذریعے کے مطابق، حملہ اتنی تیزی سے ہوا کہ فوجیوں کو محفوظ بنکروں میں جانے یا وہاں سے نکلنے کے لیے کوئی وارننگ یا سائرن نہیں بج سکا۔ حملے کے کئی گھنٹوں بعد بھی عمارت کے کچھ حصوں سے دھواں اٹھ رہا تھا، اندرونی حصہ مکمل طور پر سیاہ ہو چکا تھا اور دھماکے کی شدت سے دیواریں باہر کی طرف پھٹ گئی تھیں۔
ایک سیٹلائٹ تصویر میں بندرگاہ کی ایک عمارت کو آگ کی لپیٹ میں اور آسمان کی طرف سیاہ دھواں اٹھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ابتدامیں سینٹرل کمانڈ نے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی لیکن مقام واضح نہیں کیا تھا۔ ذریعے کے مطابق وہاں درجنوں افراد موجود تھے، اور ہلاک آخری اہلکار گرد و غبار بیٹھنے کے بعد تک لاپتہ تھے۔ عمارت میں آگ لگی ہونے کی وجہ سے باقیات کی تلاش میں وقت لگا۔
سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا کہ ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ تاحال ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی کیونکہ ان کے اہل خانہ کو مطلع کرنے کا عمل جاری ہے۔ یہ تمام فوجی فرسٹ تھیٹر سسٹینمنٹ کمانڈ سے وابستہ تھے، جس کا ہیڈ کوارٹر فورٹ ناکس، کینٹکی میں ہے، جہاں مختلف یونٹس کے دستے نو ماہ کی گردش (روٹیشن) پر تعینات کیے جاتے ہیں۔
یہ چھ ہلاکتیں ہفتے کی صبح شروع ہونے والی امریکی فوجی کارروائی، جسے ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ (Operation Epic Fury) کا نام دیا گیا ہے، میں پہلے جانی نقصانات ہیں۔ وزیر دفاع ہیگستھ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے خبردار کیا ہے کہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ سینٹ کام کے ترجمان نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران اب تک 18 امریکی فوجی شدید زخمی ہو چکے ہیں۔