سکرنڈ: خونیں رشتوں میں شادیاں یا آزمائش؟ ایک ہی خاندان میں 200 گونگے پیدا

گوٹھ کے لوگوں سے اشاروں میں بات چیت کرتے ہیں، گوٹھ کے مکین بھی اشاروں کی زبان سمجھ گئے ہیں ۔

               
March 3, 2026 · چشم حیرت

نواب شاہ : سکرنڈ کے قریب گوٹھ پیارو چانڈیو میں بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم خاندان رہائش پذیر ہے اور تمام افراد آپس میں اشاروں سے بات چیت کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سکرنڈ تحصیل کے گوٹھ پیارو چانڈیو میں خاصخیلی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے200 سے زائد افراد گونگے ہیں ان میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں اور یہ سب گوٹھ کے لوگوں سے اشاروں میں بات چیت کرتے ہیں اور گوٹھ کے مکین بھی ان سے اشاروں میں بات چیت کرکے وہ بھی اشاروں کی زبان سمجھ گئے ہیں۔

بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم افراد میں بلاول خاصخیلی ،بھاول خاصخیلی ،شوال خاصخیلی ،جاوید خاصخیلی ،فاطمہ خاصخیلی ،فرزانہ خاصخیلی ،لال خاتون خاصخیلی ،شامل ہیں جبکہ معذوروں میں اللہ سنو خاصخیلی ،صدر اللہ خاصخیلی ،ظہیر خاصخیلی ،سلیم خاصخیلی ،صاحبزادی خاصخیلی اور ساجد علی خاصخیلی شامل ہیں۔

اس حوالے سے گوٹھ کے مکین مبارک علی اور دیگر نے بتایا کہ ہمارے خاندان کے متعدد نوجوانوں نے خاندان میں شادی کی ہے وہ پیدائشی گونگے نہیں تھے مگر ان کے جو بچے ہوئے ہیں وہ گونگے پیدا ہوئے، اس طرح ہمارے خاندان میں گونگوں کی تعداد2 سو سے زائد ہے اور ان کو محنت مزدوری میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ گونگے افراد کی تعداد میں اضافہ اس لیے ہوتا گیا کہ خاندان میں شادیاں کرتے گئے تو بچے گونگے پیدا ہوتے گئے ہیں۔

انھوں نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سے اپیل کی ہے کہ ان کے خاندان کے افراد کے ٹیسٹ کروائے جائیں اور علاج کروایا جائے تاکہ گونگے بچوں کی پیدائش کو روکا جاسکے۔ اس سلسلے میں سکرنڈ کے ڈاکٹر پریم چند نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ یہ کوئی بیماری نہیں مگر خاندان کا خونی تعلق ہونے کے باعث بچے گونگے پیدا ہورہے ہیں کیونکہ ان کا ڈی این اے بھی ایک ہی ہے اس لیے اس سے بچاﺅ کے لیے اس خاندان کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی شادی اپنے خاندان میں نہ کریں بلکہ خاندان سے باہر شادی کروائی جائے تو اس بیماری سے نجات حاصل ہوسکتی ہے۔