پشاور: 2.23 ارب روپے کی لاگت سے سیف سٹی منصوبے کا افتتاح

ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں بھی یہ نظام تکمیل کے مراحل میں ہے، بہت جلد فعال بنایا جائے گا، سہیل آفریدی

               
March 4, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور:پشاور میں امن و امان کے قیام اور جدید خطوط پر نگرانی کے لیے 2 ارب 23 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کردہ سیف سٹی منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہر کے 133 حساس اور اہم مقامات پر 711 جدید کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔

سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال دن بدن سنگین ہو رہی ہے۔ بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی کی کوشش کی گئی جسے پولیس نے بروقت ناکام بنا دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پشاور کے بعد ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں بھی یہ نظام جلد فعال ہو جائے گا۔جون کے بعد صوبے کے دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز اور ضم اضلاع میں بھی سیف سٹی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

انھوں نے وفاقی نمائندوں پر زور دیا کہ اگر ترجیحات تبدیل نہ کی گئیں تو حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔

منصوبے کی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس سسٹم میں صرف کیمرے ہی نہیں بلکہ دیگر جدید آلات بھی شامل ہیں۔

شہری نگرانی، ایمرجنسی رسپانس اور ٹریفک مینجمنٹ کو ایک ہی مرکز سے جوڑا جائے گا۔ بی آر ٹی، ریڈ زون اور حساس مقامات کے موجودہ کیمروں کو بھی نئے سسٹم کا حصہ بنایا جائے گا۔

اسمارٹ سرویلنس وہیکلز، ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹم اور 68 پینک بٹنز (Panic Buttons) شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔

سہیل آفریدی نے خارجہ پالیسی اور داخلی فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ سے متعلق اہم فیصلے ‘بند کمروں’ میں کرنے کے بجائے پارلیمان اور قوم کو اعتماد میں لے کر کیے جائیں۔ انہوں نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔”

گرینڈ جرگہ اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بارہا مطالبہ کے باوجود افغانستان کے لیے ‘گرینڈ جرگہ’ تشکیل نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے حالات بگڑے۔ سہیل آفریدی نے پاکستان کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر اور امتِ مسلمہ کے رہنما (بانی پی ٹی آئی) کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے، انہیں فوری رہا کیا جائے۔