شیخ رشید کی عمرہ اجازت کیس:ہائیکورٹ نے اہم آئینی سوالات اٹھا دیے
درخواست کی سماعت ہائیکورٹ میں ہوئی۔ سماعت جسٹس جواد حسن اور جسٹس طارق باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔
اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی عمرہ ادائیگی کے لیے اجازت سے متعلق درخواست کی سماعت ہائیکورٹ میں ہوئی۔ سماعت جسٹس جواد حسن اور جسٹس طارق باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔
شیخ رشید احمد عدالت میں اپنے وکیل سردار عبدالرازق خان کے ساتھ پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر کسی کو عمرہ سے روکنا ایک اہم آئینی سوال ہے اور اس معاملے پر تفصیلی بحث اور دلائل کے بعد تفصیلی اور رپورٹڈ فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جو شخص سابقہ عمرہ پر بروقت واپس آیا ہو اسے کیوں روکا گیا۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ بادی النظر میں ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کو عمرہ جانے سے نہیں روکا جا سکتا اور حکومت واپسی کی گارنٹی کے بعد سائل کو عمرہ پر جانے کی اجازت دے سکتی ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ شیخ رشید کو جی ایچ کیو حملہ کیس کی وجہ سے روکا گیا ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس کے لیے کوئی واضح قانون موجود ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ کیس آئین کے آرٹیکل 28-A کے تحت تفصیلی طور پر سنا جائے گا۔
شیخ رشید احمد نے عدالت کو بتایا کہ وہ 17 مرتبہ وفاقی وزیر رہ چکے ہیں، مگر اس مرتبہ انہیں 6 ماہ سے عمرہ پر جانے سے روکا جا رہا ہے۔ وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ پہلے ہی شیخ رشید کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال چکی ہے، لیکن دوبارہ بغیر کسی وجہ کے سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی اور کہا کہ پورے دن کی سماعت کے بعد مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ سے روکنے کے معاملے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔