امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی: بھارتی اڈانی گروپ 275 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر رضا مند

یہ تصفیہ امریکی پابندیوں کی واضح طور پر 32 ممکنہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کیا گیا ہے ، محکمہ خزانہ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن:امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کے مشہور کاروباری گروپ ‘اڈانی انٹرپرائزز’ نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے حل کے لیے 275 ملین ڈالر (تقریباً 27.5 کروڑ ڈالر) کے تصفیے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

محکمہ خزانہ کے ‘آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول’ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ تصفیہ امریکی پابندیوں کی واضح طور پر 32 ممکنہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اڈانی انٹرپرائزز نے دبئی میں قائم ایک نجی ٹریڈنگ کمپنی سے مائع پیٹرولیم گیس (LPG) کے جہاز خریدے تھے۔ دبئی کے اس تاجر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ گیس عمان اور عراق سے لائی گئی ہے، تاہم بعد میں امریکی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ گیس اصل میں ایران سے حاصل کی گئی تھی، جس پر امریکا نے سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نومبر 2023 سے جون 2025 کے درمیان کی جانے والی ان خریداریوں کے دوران کمپنی کو کئی ایسے شواہد (‘ریڈ فلیگز’) ملے تھے جن سے واضح ہوتا تھا کہ گیس ایرانی نژاد ہے، لیکن اس کے باوجود امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے ادائیگیوں کے سلسلے کو جاری رکھا گیا۔

دوسری جانب، خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی محکمہ انصاف اڈانی گروپ کے خلاف جاری دیگر فوجداری اور دھوکہ دہی کے مقدمات کو بھی جلد خارج کرنے کے قریب ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ نرمی ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی نے امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کرنے کا باقاعدہ وعدہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ اڈانی گروپ اس سے قبل بھی امریکا میں مبینہ رشوت ستانی اور سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کے سول مقدمات کا سامنا بھی کر چکا ہے، جنہیں حل کرنے کے لیے حال ہی میں ایک علیحدہ تصفیہ بھی کیا گیا تھا۔ موجودہ تصفیے کے بعد اڈانی گروپ کے لیے امریکی مارکیٹ میں جاری قانونی مشکلات بڑی حد تک کم ہونے کی توقع ہے۔