ایران کی جنگ میں امریکہ نے مصنوعی ذہانت کیسے استعمال کی، جانیں لینے کا ذمہ دار کون؟
سوچ سے بھی تیزی کے ساتھ حملوں کا تجربہ کامیاب۔اے آئی نے جنگوںکا چہرہ بدل دیا
ایران پر حملوں میںمصنوعی ذہانت کا استعمال سوچ کی رفتار (speed of thought) سے بھی تیز کارروائیوںکے ایک نئے دور کا پیش خیمہ بن گیا،ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں انسانی فیصلہ ساز محض مشین کے بنائے ہوئے منصوبوں کی توثیق تک محدود ہو سکتے ہیں۔
امریکی فوج نے ان حملوں کی بوچھاڑ میں اینتھروپک اے آئی ماڈل کلاڈ استعمال کیا، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کل چین(kill chain) کو مختصر کر دیتی ہےیعنی ہدف کی شناخت سے لے کر قانونی منظوری اور حملے تک پورے عمل کو تیز کر دیتی ہے۔ اے آئی ہداف کے بارے میں ایسی سفارشات دے رہی ہے جو بعض لحاظ سے انسانی سوچ کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہیں۔ اس طرح آپ کے پاس بڑے پیمانے پر حملوں کی صلاحیت اور رفتار آ جاتی ہے، جس کے ذریعے آپ ایک ہی وقت میں مخالف کو نشانہ بناتے ہیں اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی صلاحیت کو بھی ختم کر دیتے ہیں۔ ماضی کی جنگوں میں اس کام کے لیے کئی دن یا ہفتے لگ سکتے تھے، لیکن اب آپ سب کچھ ایک ساتھ کر رہے ہیں۔
ایران پر حملوں سے چند روز قبل، امریکی انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ اینتھروپک کو اپنے سسٹمز سے نکال دے گی کیونکہ اس نے اپنے اے آئی کو مکمل طور پر خودکار ہتھیاروں یا امریکی شہریوں کی نگرانی کے لیے استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن یہ تاحال استعمال میں ہے۔ دوسری طرف اینتھروپک کی حریف کمپنی اوپن اے آئی نے فوری طور پر پینٹاگون کے ساتھ اپنے ماڈلز کے فوجی استعمال کا معاہدہ کر لیا۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) کی ریسرچ فیلو پریرنا جوشی کے مطابق اے آئی کا استعمال لاجسٹکس، تربیت، مینجمنٹ اور دیکھ بھال سمیت دفاع کے تمام شعبوں میں پھیل رہا ہے۔ یہ ڈیٹا کو بہت تیز رفتاری سے یکجا کرنے کا ایک طریقہ ہے جو فیصلہ سازوں کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے حالیہ جنگ کے محض پہلے 12 گھنٹوں میں ایرانی اہداف پر تقریباً 900 حملے کیے۔
اے آئی پیچیدہ حملوں کی منصوبہ بندی میں درکار وقت کو کم کر رہی ہے، جسے ماہرین’’ڈیسیژن کمپریشن‘‘کہتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں انسانی تجزیہ کار کے لیے فیصلے کرنے کا وقت بہت محدود رہ جاتا ہے۔ اے آئی کی مدد سے ایک ہی وقت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، حملوں کی رفتار اور حجم پہلے کے مقابلے میں بے حد بڑھ گئے ہیں، اور بیلسٹک میزائل یا دیگر ہتھیاروں کے ذریعے جوابی کارروائی کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکتا ہے۔
خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں فوجی اور قانونی ماہرین محض مشین کے بنائے گئے خودکار منصوبوں پر مہر لگانے تک محدود ہو جائیں گے۔ 2024 میں، سان فرانسسکو میں قائم اینتھروپک نے جنگی منصوبہ بندی کو تیز کرنے کے لیے اپنا ماڈل امریکی محکمہ جنگ اور دیگر قومی سلامتی کے اداروں میں نافذ کیا تھا۔ کلاڈ (Claude) اس سسٹم کا حصہ بن گیا جسے جنگی ٹیکنالوجی کی کمپنی Palantir نے پینٹاگون کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے تاکہ انٹیلی جنس تجزیہ کو بہتر بنایا جائے اور حکام کو فیصلے کرنے میں مدد دی جا سکے۔
جدید ترین AI سسٹمز ڈرون فوٹیج سے لے کر ٹیلی کمیونیکیشن مداخلت اور انسانی انٹیلی جنس تک، ممکنہ اہداف کے بارے میں معلومات کے پہاڑ جیسے انبارکا تیزی سے تجزیہ کر سکتے ہیں۔ پالانٹیر (Palantir) کا نظام مشین لرننگ کے ذریعے اہداف کی شناخت اور ترجیحات کا تعین کرتا ہے، اسلحہ تجویزکرتا ہے اور حملے کے قانونی جواز کا جائزہ لینے کے لیے خودکار منطق کا استعمال کرتا ہے۔
اے آئی سفارشات انسانی سوچ کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہو سکتی ہیں، جن سے بڑے پیمانے پر اور پیچیدہ حملوں کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ کوئین میری یونیورسٹی آف لندن میں اخلاقیات اور ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈیوڈ لیسلی نے خبردار کیا کہ اے آئی پر انحصار ذہنی سستی (cognitive off-loading) کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ انسانی فیصلہ ساز خود کو نتائج سے الگ محسوس کر سکتے ہیں اور صرف مشین کے بنائے منصوبے کی توثیق کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔لیسلی کا کہنا ہے کہ اصل فائدہ فیصلے کرنے کی رفتار میں ہے، جہاں منصوبہ بندی دنوں اور ہفتوں کے بجائے سیکنڈوں میں سمٹ گئی ہے۔ یہ نظام انسانی فیصلہ سازوں کو اختیارات تو فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے پاس سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے وقت بہت کم ہوتا ہے۔
اے آئی دفاع کے تمام شعبوں میں، جیسے لاجسٹکس، تربیت، مینجمنٹ اور دیکھ بھال، استعمال ہو رہا ہے، کیونکہ یہ ڈیٹا کو تیزی سے یکجا کر کے فیصلہ سازوں کے لیے مفید معلومات فراہم کرتا ہے اور منصوبہ بندی کے دنوں یا ہفتوں کے بجائے سیکنڈوں میں مکمل ہونے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس طرح، AI نے جنگی منصوبہ بندی اور حملوں کی رفتار میں انقلاب برپا کر دیا ہے، انسانی فیصلہ سازی کو سہارا دینے کے بجائے بعض اوقات محدود بھی کر سکتا ہے اور قانونی و اخلاقی تحفظات کے لحاظ سے خطرات پیدا کرتا ہے، سپر پاورز اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کر رہی ہیں اور دیگر ممالک محدود صلاحیتوں کے باوجود اسے اپنے دفاع میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔