پندرہ برس کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی، متاثرہ خاتون کی چھپائی گئی دستاویزات جاری

ایف بی آئی نے خاتون سے 3 بار بات چیت کی تھی، الزامات بے بنیاد ہیں، وائٹ ہاؤس

               

ٹرمپ کی ایپسٹین کے ساتھ تصویر۔۔ 1990 کے عشرے میں ٹرمپ ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کرتے تھے

امریکہ میں ایک جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین سے متعلق ایف بی آئی کی ان دستاویزات کو جاری کرنے کا حکم دیا ہے جن میں ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے جب وہ 15 برس سے چھوٹی تھیں تو ان دونوں نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ دستاویزات ایپسٹین فائلز سے چھپا لی گئی تھیں۔ ایف بی آئی کی تین یادداشتوں میں 2019 میں اس خاتون سے کیے گئے انٹرویوز کا خلاصہ شامل ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1980 کی دہائی میں انہیں جیفری ایپسٹین نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملوایا تھا۔

خاتون کے مطابق اسی عرصے کے دوران دونوں افراد نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ تب ان کی عمر 13 سے 15 برس کے درمیان تھی۔

تاہم ایف بی آئی کے مطابق ان الزامات کی تاحال کوئی تصدیق نہیں ہو سکی اور ان دعووں کی تائید کے لیے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔

دستاویزات کے مطابق ایف بی آئی نے 2019 میں خاتون کے ساتھ متعدد انٹرویوز کیے لیکن بعد میں اس معاملے میں مزید رابطہ نہیں کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ جس وقت خاتون نے واقعات کا دعویٰ کیا، اس وقت ٹرمپ اور ایپسٹین ایک دوسرے کو جانتے تھے یا نہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف نے کہا کہ یہ فائلیں پہلے اس لیے جاری نہیں ہو سکیں کیونکہ انہیں غلطی سے “دہرائی گئی دستاویزات” کے طور پر کوڈ کر دیا گیا تھا، جس کے باعث وہ ابتدائی جائزے کے دوران شامل نہیں کی گئیں۔

وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں “بے بنیاد” قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایپسٹین فائلز کی اشاعت کے بعد مکمل طور پر بے قصور قرار دیا جا چکا ہے اور ان کے خلاف کوئی قابلِ اعتبار ثبوت موجود نہیں۔

محکمۂ انصاف کے مطابق ٹرمپ کے خلاف مختلف افراد کی جانب سے شکایتی لائن پر کئی الزامات جمع کرائے گئے تھے، تاہم ان میں سے بیشتر غیر مصدقہ اطلاعات پر مبنی تھے اور ان کے ساتھ کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ دستاویزات ابتدائی ایپسٹین فائلز میں شامل نہیں تھیں جس کے بعد ڈیموکریٹک ارکان نے الزام عائد کیا تھا کہ ممکنہ طور پر معلومات کو چھپایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے گزشتہ سال ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقات کی تمام فائلیں عوام کے سامنے لانا لازم قرار دیا گیا، جس کے بعد لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات مرحلہ وار جاری کی جا رہی ہیں۔