پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا: اسحاق ڈار

افغان طالبان رجیم نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات کو نظر انداز کیا اور کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھی

               
March 8, 2026 · اہم خبریں

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں افغانستان پالیسی اور قومی مفادات کے تحفظ سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات کو نظر انداز کیا اور کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھی، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں جھڑپیں شروع ہوئیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے صرف دفاع کے لیے اقدامات کیے اور سرحدی علاقوں میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن اور سفارتکاری کا حامی ہے اور مزید کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات کے خاتمے کے لیے تعاون ضروری ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال پاکستان میں 5300 سے زائد دہشت گردی کے واقعات ہوئے، جن میں 1200 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے۔

اسحاق ڈار کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی افغانستان میں ہزاروں دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہے۔