نصف صدی کی میزبانی کا صلہ صرف نفرت؟ خواجہ آصف کا افغان مہاجرین پر وار
"احسان فراموشی اب برداشت نہیں ہوگی"، وزیر دفاع کا کابل حکومت کو دوٹوک جواب
فائل فوٹو
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے افغانستان اور وہاں سے آنے والے مہاجرین کے حوالے سے انتہائی سخت اور جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اب مزید کسی قسم کی احسان فراموشی برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو ہم نے تحفظ دیا اور زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے، وہی آج پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے ایکس پر ٹوئٹ میں کہاکہ پاکستان نے گزشتہ 50 سالوں سے لاکھوں افغان باشندوں کی میزبانی کی، انہیں اپنے وسائل میں حصہ دار بنایا اور امن فراہم کیا، لیکن بدلے میں شکریہ کے بجائے صرف نفرت ملی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ “سانپ پالنے” کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ جو لوگ یہاں رہ کر ہمارے ہی خلاف زہر اگلتے ہیں، ان کے لیے پاکستان میں اب کوئی جگہ نہیں۔
وزیر دفاع نے طنزیہ انداز میں کابل حکومت اور وہاں کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر طالبان کے آنے کے بعد افغانستان واقعی “فرشتوں کی حکمرانی” میں جنت بن چکا ہے، تو پھر یہ لاکھوں افغان باشندے پاکستان میں کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر وہاں سب کچھ مثالی ہے تو ان تمام افراد کو فوری طور پر اپنے ملک واپس چلے جانا چاہیے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان نے نصف صدی تک ان کا بوجھ اٹھا کر خود کو “سائبان” ثابت کیا، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ یہ تمام لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ ملک دشمن عناصر اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے تناظر میں اب کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔