وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا پیٹرول کی مد میں موٹر سائیکل والوں کو 22 سو روپے دینے کا اعلان

موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی سبسڈی، خواتین کے لیے 'پنک بسیں' اور بی آر ٹی کے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

               
March 8, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے کو عوامی دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے صوبے کے عوام کے لیے بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔ پشاور میں صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت پیٹرول میں اضافہ مسترد کرتی ہے، پیٹرول کی مد میں موٹر سائیکل والوں کے لیے 22 سو روپے دینے کا اعلان کرتے ہیں، خیبر پختونخوا حکومت اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں رجسٹرڈ 14 سے 16 لاکھ موٹر سائیکل سواروں کو اس ریلیف نیٹ میں لایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ  نے کہاکہ بی آر ٹی (BRT) کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا تاکہ عام آدمی کی جیب پر بوجھ نہ پڑے۔

انھوں نے کہاکہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین کی سہولت کے لیے بی آر ٹی میں خصوصی ‘پنک بسیں’ چلائی جائیں گی۔بی آر ٹی بیڑے میں 140 نئی بسوں کا اضافہ کیا جا رہا ہے جن میں سے 52 تیار ہو چکی ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ “ماضی میں 12 روپے اضافے کو پٹرول بم کہنے والے آج 55 روپے بڑھا کر عوام پر ظلم کر رہے ہیں”۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے کا لگژری طیارہ خریدنے کو غلط ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو شاہ خرچیاں کم کرنی چاہئیں نہ کہ عوام کا کچومر نکالنا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 5300 ارب روپے کی کرپشن کے انکشافات کے بعد عوام سے قربانی مانگنا ناقابل قبول ہے۔

وزیر اعلیٰ نے خوشخبری سنائی کہ گندم کی کٹائی کے موقع پر کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج تیار کیا جا رہا ہے جس کا جلد اعلان ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پٹرول پمپوں کی مانیٹرنگ اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے ملک کا پہلا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کر دیا ہے، جس سے تیل کی فراہمی کی براہ راست نگرانی کی جا رہی ہے۔

اپنی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا صوبائی وزراء کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔نئی گاڑیوں کی خریداری اور غیر ملکی سرکاری دوروں پر مکمل پابندی ہے۔ہیلی کاپٹر حادثے کے باوجود عوامی پیسے بچانے کے لیے نیا ہیلی کاپٹر نہیں خریدا گیا۔

اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ پٹرولیم لیوی کو 86 روپے سے بڑھا کر 105 روپے کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے پہلے 7 ماہ میں 822 ارب روپے وصول کیے اور سال کے آخر تک عوام کی جیبوں سے 1700 ارب روپے نکالنے کا ہدف رکھا گیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

آخر میں وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ہم کسی سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور قومی مفاد پر کبھی سیاست نہیں کریں گے، لیکن عوام کے مفاد کے خلاف کسی بھی پالیسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔