چین میں 10 منزلہ عمارت صرف 29 گھنٹے میں تعمیر۔ یہ کیسے ممکن ہوا ؟
چانگشا ہوٹل کا منصوبہ پری فیب تعمیرات پر بڑھتے چینی انحصار کی صرف ایک مثال ہے
پری فیبریکیٹڈ عمارت
چین کی پری فیبریکیشن اور ماڈیولر تعمیراتی تکنیک نے عمارت سازی کے روایتی طریقوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ عمارت کے اہم حصوں کو فیکٹری میں تیار کرنے اور پھر انہیں جائے وقوعہ پر جوڑنے کے اس طریقے میں چینی کمپنیوں نے مہارت حاصل کر لی ہے۔وسطی چین کے شہر چانگشا (Changsha) کے دریا کنارے واقع پرسکون قصبے میں 3ہزارمزدوروں کی ٹیم نےایک 10منزلہ ہوٹل کی عمارت محض 29 گھنٹوں میں تعمیرکردی۔
چانگشا ہوٹل کا منصوبہ چین کی پری فیب تعمیرات پر بڑھتے انحصار کی صرف ایک مثال ہے۔ گزشتہ دہائی میں چین نے اس ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، کیونکہ یہ شہری آبادی، قدرتی آفات کے فوری ردعمل اور ماحولیاتی پائیداری جیسے چیلنجز کا بہترین حل ہے۔
پری فیبریکیشن کے کئی فوائد ہیں: تعمیراتی وقت میں کمی، مزدوری کے اخراجات میں بچت، بہتر کوالٹی کنٹرول اور توانائی کی بچت۔ فیکٹری کے کنٹرولڈ ماحول میں کام ہونے کی وجہ سے باریکی اور پائیداری زیادہ ہوتی ہے، اور مقامی آبادی کو شور و غل یا کچرے سے بھی کم پریشانی ہوتی ہے۔
تعمیرات کی ایسی غیر معمولی رفتار کے لیے انتہائی باریک بینی سے منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمارت کو معیاری اکائیوں پرمشتمل مختلف ماڈیولز میں تقسیم کیا جاتا ہے جنہیں آسانی سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ اس میں ہر نٹ، بولٹ اور پائپ کی پیمائش اتنی درست ہونی چاہیے کہ جوڑتے وقت ذرہ برابر بھی فرق نہ آئے۔
چین کے اس تعمیری انقلاب کے اثرات سرحدوں سے باہر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے دنیا میں شہری پھیلائو بڑھ رہاہے، تیز رفتار اور پائیدار حل کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ آفات زدہ علاقوں میںگھروں کی فوری فراہمی ہو یا ترقی یافتہ ممالک میں تعمیراتی صنعت کو جدید بنانا،چین کی ان تکنیکوں میں راستہ موجودہے۔
چانگشا ہوٹل کا منصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ تعمیرات کا مستقبل بدل چکا ہے۔ ایک ایسی دنیا کا تصور آگیاہےجہاں عمارتیں دنوں میں کھڑی ہو جائیں، تعمیراتی مقامات صاف اور محفوظ ہوں، اور ماحول پر ان کے منفی اثرات کم سے کم ہوں۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی متاثر کن ہے تاہم، اتنی تیز رفتار تعمیر کا ایک انسانی پہلو بھی ہے؛ ذہنی اور جسمانی دباؤ کے تحت کام کرنا مزدوروں کی صحت کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔