کراچی میں شیطان کی علامت ’بعل‘ کے مجسمے پر سنسنی
سڑک کنارے تیار کیا جا رہا تھا، ایران میں گذشتہ ماہ بال کے مجسمے جلائے گئے
کراچی میں سڑک کے کنارے لوگ مجسمے کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب یہی مجسمہ تھانے میں رکھا ہے
کراچی کے علاقے کورنگی میں لوگوں کو سڑک کے کنارے ایک سفید رنگ کا مجسمہ ملا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مجسمہ بعل یا بال زبوب کا ہے جسے شیطان کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ پولیس نے کچھ گھنٹے کی تحقیقات کے بعد معلوم کر لیا کہ مجسمہ کس نے بنوایا تھا۔
کورنگی کے علاقے مہران ٹاؤن میں سڑک کے کنارے یہ سفید رنگ کا مجسمہ دکھائی دیتا جس کا بیل جیسا منہ لیکن انسانوں جیسا دھڑ ہے۔ اس کے دو سینگ بھی ہیں۔
ایک شخص نے اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لگائی اور انتظامیہ سے سوال کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سڑک کے کنارے یہ شیطانی مجسمہ کیسے تیار کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو بنانے والے کا کہنا تھا کہ اسے کسی پروگرام میں لگایا جانا تھا۔
کراچی کورنگی میں بھی شیطانی مجسمے کی تیاری ۔۔۔
سمجھ نہیں آرہی اب ہمارے والوں کا کیا ضرورت آن پڑی ہے؟ pic.twitter.com/nZFjdfOcKd— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) March 11, 2026
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی بلدیاتی نمائندے اور پولیس کے اہلکار اس دکان پر پہنچ گئے جہاں مبینہ طور پر یہ مجسمہ تیار کیا جا رہا تھا اور اسے تھانے منتقل کردیا۔
ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری نے ویڈیو وائرل ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایات جاری کی ۔
ایس ایچ او ناصر محمود نے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شیطانی مجسمے کو تحویل میں لے لیا تاہم کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی ۔ ابتدا میں ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ مجسمہ کس مقصد کے لئے بنایا گیا ہے ۔ اور کس کے کہنے پر بنایا گیا ہے ۔ مجسمہ ساز کی تلاش کی جاری ہے جس کے بعد جو بھی کارروائی ہوگی عمل میں لائی جائےگی ۔ واقعے کی تفتیش کی جارہی ہے۔
یہ مجسمہ تھرموپول سے بنا تھا۔ پولیس حکام نے چند گھنٹے بعد بتایا کہ اسے ایک مقامی مجسمہ ساز نے بنایا تھا جسے علامہ شبر زیدی نے ٹاسک دیا تھا، پولیس کے بقول علامہ شبر زیدی نے یوم القدس کے لیے مجسمہ بنوایا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق علامہ صاحب نے کہا جمعہ کے روز ہم نے یہ پتلا جلانا تھا۔
عمران نامی مجسمہ ساز کی جانب سے پولیس کو وضاحتی بیان بھی دے دیا گیا۔
ایران میں بعل کے مجسمے جلانے کا واقعہ
ایران میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ پر 11 فروری کو بعل کے مجسمے جلائے گئے تھے۔ ایران میں اسے شطانیت اور صہیونیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مجسمہ جلانے والے اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔
اس شیطانی مجسمے کا ایک تعلق بچوں کو بلی چڑھانے کے واقعات اور بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین سے بھی ہے۔
Iranian protesters burned an effigy of the satanic figure Baal, depicted with a Star of David, while chanting “Death to Israel.”
Baal is a symbol of Satanism, elite corruption, and child sacrifice, linked directly to pedophiles like Jeffrey Epstein. pic.twitter.com/1ZL4U8kcx7
— Shadow of Ezra (@ShadowofEzra) February 11, 2026
بعل کیا ہے
قدیم زمانے میں، خاص طور پر شام اور فلسطین کے علاقوں (کنعان) میں، “بعل” کو بارش، طوفان اور زرخیزی کا دیوتا مانا جاتا تھا۔ اس کا نشان اکثر بیل (Bull) ہوتا تھا، جو طاقت اور افزائشِ نسل کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
قرآن مجید اور بائبل میں “بعل” کا ذکر ایک جھوٹے خدا یا بت کے طور پر آیا ہے۔
سورۃ الصافات کے مطابق حضرت الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا: “کیا تم ‘بعل’ کو پوجتے ہو اور بہترین پیدا کرنے والے (اللہ) کو چھوڑ دیتے ہو؟”
اسی وجہ سے ابراہیمی مذاہب میں اسے شرک اور گمراہی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ، “بال” کا ایک نام “بعل ذبوب” (Baal-Zebub) پڑ گیا، جس کا مطلب “مکھیوں کا خدا” تھا۔ بعد ازاں عیسائی روایات میں یہی نام بگڑ کر “بیلزیبب” (Beelzebub) بن گیا، جو اب شیطان (Satan) کے ایک بڑے کارندے یا خود شیطان کے ایک نام کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ اسے شیطانی علامت سمجھتے ہیں۔