سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ، فائر آفیسر کا بیان ریکارڈ

اطلاع ملنے کے وقت تقریباً 30 اہلکار موجود تھے ، ڈرائیور صرف دو تھے جس کے باعث اسنارکل کی موومنٹ متاثر ہوئی ، بیان

               
March 12, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں فائر آفیسر محمد توصیف نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں رات 10 بج کر 40 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع ملی، جب وہ گل پلازہ پہنچے تو فائر ٹینڈر اور اسنارکل کام کر رہے تھے اور اسنارکل کے ذریعے لوگوں کو ریسکیو کیا گیا جبکہ 2 لاشیں بھی نکالی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ فائر اسٹیشن میں تین اسنارکل، فائر ٹینڈر اور 60 سے زائد ملازمین موجود ہیں تاہم اطلاع ملنے کے وقت تقریباً 30 اہلکار موجود تھے جبکہ ڈرائیور صرف دو تھے جس کے باعث اسنارکل کی موومنٹ متاثر ہوئی۔فائر اسٹیشن کے ٹینک میں 55 ہزار گیلن پانی موجود ہوتا ہے لیکن سانحہ کے وقت پانی کی کمی اور بجلی کی بندش کے باعث کام متاثر ہوا، ہفتے کے روز پانی نہیں آتا اور لائن کا پانی بھی ابتدائی ایک گھنٹہ سیوریج کا ہوتا ہے جس کے بعد پانی اسٹور کیا جاتا ہے۔صدر فائر اسٹیشن سے پہلی گاڑی 10 بج کر 34 منٹ پر روانہ ہوئی جبکہ کراچی میں فائر بریگیڈ کے پاس وائرلیس سسٹم موجود نہیں اور ایمرجنسی میں موبائل فون کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے کلاس آگ کیلئے پانی اور بی کلاس آگ کیلئے فوم استعمال کیا جاتا ہے اور گل پلازہ پر پہلے پانی اور بعد ازاں دو سے چار منٹ کے اندر فوم استعمال کیا گیا، جبکہ اسنارکل خراب نہیں تھی بلکہ پانچویں منزل کے بعد کام نہیں کر سکتی تھی۔

دوران سماعت سول ڈیفنس کے ٹیکنیکل انسٹرکٹر مرسلین بیگ نے بیان دیا کہ انہیں گل پلازہ آتشزدگی کی اطلاع ٹی وی کے ذریعے ملی۔ان کے مطابق گل پلازہ میں کلاس بی کی آگ تھی اور اگر عمارت کے اندر داخل ہوتے تو آگ کی نوعیت معلوم ہو جاتی، پانی کے استعمال کے باوجود آگ نہ بجھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پانی مؤثر نہیں تھا جبکہ فوم یا کیمیکل اس لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جلنے والے میٹریل کی آکسیجن سپلائی روکی جا سکے۔

چیف فائر آفیسر نے مؤقف اختیار کیا کہ سول ڈیفنس نے گل پلازہ کا فائر آڈٹ کر کے انتظامات ناکافی قرار دیئے تھے تاہم عدالت قائم ہونے کے بعد چالان جمع کیوں نہیں کروائے گئے، جس پر جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ اس کا آپ سے کیا تعلق ہے اور ہدایت کی کہ صرف بیان پر جرح کریں اور تقریر نہ کریں۔ بعد ازاں کمیشن نے مزید کارروائی 18 مارچ تک ملتوی کر دی۔