افغان طالبان کی ڈرون دہشت گردی سے اہم تنصیبات محفوظ رہیں۔ حکومت
دعووں میں ہمیشہ کی طرح کوئی بھی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں۔وزارت اطلاعات
اسلام آباد میں جمعہ 13 مارچ کو مار گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ
وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی زیرِ سرپرستی پلنے والی دہشت گرد تنظیمFAK کے دو سادہ ڈرونز کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے الیکٹرانک کانٹر میژرز (ECM) کے ذریعے کامیابی سے مار گرایا۔ ان ڈرونز کے گرنے سے ملبے کی وجہ سے ہونے والے معمولی نقصان کے علاوہ، کسی بھی فوجی یا دیگر تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔
وزارت اطلاعات ونشریات کے مطابق ،طالبان انتظامیہ کے دعووں میں ہمیشہ کی طرح کوئی بھی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں ، البتہ ان کا یہ طرزِ عمل دہشت گردی کے ماسٹر پراکسی کے طور پر ان کے قائم کردہ کردار کو مکمل طور پر بے نقاب کرتا ہے، جو بھارت کی پراکسیز FAK اور FAH جیسی متعدد دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔
وزارت کی وضاحت میں کہاگیاہے کہ طالبان انتظامیہ کے آفیشل اکائونٹس، بشمول ان کی نام نہاد وزارتِ دفاع کا اکائونٹ، باقاعدگی سے من گھڑت خبریں اور پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان میں حال ہی میں کیے گئے وہ بے بنیاد دعوے بھی شامل ہیں جن میں پاک فضائیہ کے طیارے گرانے اور پائلٹوں کو پکڑنے کا جھوٹ بولا گیا تھا، جسے بعد میں انہوں نے شرمندگی مٹانے کے لیے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے جنکشن فیض آباد کے قریب پرواز کرنے والے 2 ڈرونز کو پاکستانی ایئر ڈیفنس نے تباہ کر دیا۔
یہ دو بنیادی نوعیت کے ڈرون علاقے میں پرواز کر رہے تھے۔ جنہیں مار گرایا گیا۔ ان کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔
ایک ڈرون فیض آباد انٹرچینج کے اوپر تھا اور دوسرا آئی-8 سیکٹر کے قریب تھا۔
سکیورٹی خدشات کے پیش نظر فضائی حدود چند منٹ کے لیے بند کی گئی۔ لیکن فورا ہی اسلام آباد کی فضائی حدود کلیئر کردی گئی اور اس کے بعد پروازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈرون مقامی نوعیت کا تھاجو کے افغانستان سے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے کوہاٹ میں بھی ایک ڈرون گرا دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر شفیع جان نے ایک بیان میں کہا کہ کوہاٹ پولیس کی خصوصی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ ڈرون کو اینٹی ڈرون سسٹم کے ذریعے جام کر دیا تھا۔
ان کے مطابق اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈرون کے سگنلز جام کیے گئے جس کے بعد موٹر بند ہونے سے ڈرون زمین پر گر گیا۔ انھوں نے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
اُدھر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سرہ غوڑ گئی میں بھی ایک ڈرون گرنے سے دو بچیاں زخمی ہو گئی ہیں۔
دریں اثنا سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل وجوہات کی بنا پر آج کچھ دیر کے لیے فلائٹ آپریشنز میں معمولی آپریشنل ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی۔ ایئرپورٹ پر تمام پروازیں اب معمول کے مطابق آپریٹ ہو رہی ہیں۔ مسافروں سے گزارش ہے کہ اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کریں۔
اسلام آباد میں جمعہ کے روز سیکورٹی معمول سے زائد تھی اور پورے شہر کے داخلی راستے کنٹینر لگا کر بند کردیئے گئے تھے۔