ایران کے پاس خودکش ڈرون کشتیوںکا بڑا ذخیرہ موجود،ویڈیو جاری
ویڈیو میں نیول ڈرونز، اینٹی شپ میزائلز اور سی مائنز نصب ہیں۔ فوٹیج میں کچھ ہتھیاروں کے لانچ ہونے کے مناظر بھی شامل ہی
ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک زیرِ زمین پیچیدہ تنصیب کا فوٹیج جاری کیا ہے، جسے ایرانی حکام نے ’میزائل سٹی‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اب خودکش ڈرون کشتیوں (USVs) کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔
ویڈیو میں لمبے سرنگ نما راستے دکھائے گئے ہیں، جن میں نیول ڈرونز، اینٹی شپ میزائلز اور سی مائنز نصب ہیں۔ فوٹیج میں کچھ ہتھیاروں کے لانچ ہونے کے مناظر بھی شامل ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ ریکارڈنگ کب کی گئی اور اس کے بعد اس مقام پر امریکی یا اسرائیلی حملے ہوئے یا نہیں۔ ایک تصویر میں سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی تصویر کے نیچے ٹریلر پر نصب نیول ڈرون دکھائی دیتا ہے۔
Iran published footage of underground tunnels stocked with naval drones, anti-ship missiles, and sea mines. Reuters reported, citing US officials, that Iran has mined the Strait of Hormuz with dozens of sea mines. #Iran pic.twitter.com/Kcwp5UqkXq
— NOELREPORTS 🇪🇺 🇺🇦 (@NOELreports) March 11, 2026
یہ نیول ڈرونز یا USVs پہلے ہی خلیج فارس میں دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ یہ چھوٹی کشتیاں پانی کی سطح یا اس کے قریب چلتی ہیں اور دھماکا خیز مواد رکھتی ہیں جو ٹکرانے پر پھٹتا ہے۔
یکم مارچ کو مارشل آئی لینڈز میں رجسٹرڈ خام تیل کے ٹینکر کو عمان کے ساحل سے 44 ناٹیکل میل کے فاصلے پر USV نے نشانہ بنایا، جس سے انجن روم میں دھماکا ہوا اور آگ بھڑک گئی، ایک عملے کا رکن ہلاک ہوا۔ چند دن بعد بہاماس کے پرچم کے تحت چلنے والے خام تیل کے ٹینکر سونانگول نامیبے کو عراق کی خور الزبیر بندرگاہ کے قریب نشانہ بنایا گیا، جس میں 23 رکنی عملہ محفوظ رہا۔
سمندری حکام کے مطابق موجودہ ایران-امریکا-اسرائیل کشیدگی کے دوران کم از کم دو آئل ٹینکروں پر USVs کے ذریعے حملے ہو چکے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی دی ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ دنیا کو تیاری کرنی چاہیے کیونکہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، کیونکہ ایرانی فورسز نے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت تقریباً محدود کر دی ہے۔