آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ٹرمپ کی اتحادی ممالک سے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل
فرانس اور برطانیہ کا محتاط ردعمل امریکہ اب چین سے بھی مدد مانگ رہا ہے، ایرانی وزیر خارجہ
آبنائے ہرمز میں بدھ 11 مارچ کو ایک بحری آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس میں آگ لگی ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ “کسی نہ کسی طرح” جلد ہی آبنائے ہرمز کو کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا، جبکہ اس مقصد کے لیے اتحادی ممالک سے جنگی بحری جہاز بھیجنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
امریکی صدر کی یہ اپیل ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے دو ہفتے بعد سامنے آئی ہے اور اس پر اتحادیوں نے محتاط ردعمل دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جنگی بحری جہاز بھیجیں تاکہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک اس اہم عالمی تجارتی راستے کو “کھلا اور محفوظ” رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق اس دوران امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ “بمباری جاری رکھے گا اور ایرانی کشتیوں اور بحری جہازوں کو پانی سے باہر نکال پھینکے گا۔”
ٹرمپ کے بیان کے بعد برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ برطانیہ خطے میں بحری جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مختلف آپشنز پر بات چیت کر رہا ہے۔
ان کے مطابق بحری جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس خلیج میں جنگی جہاز بھیجنے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ اقدام صرف ایک “حفاظتی مشن” تک محدود ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ فرانس کا یہ اقدام صرف اس وقت ممکن ہوگا جب جاری تنازع کا شدید ترین مرحلہ ختم ہو جائے گا۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا حفاظتی ڈھانچہ دراصل کمزوریوں سے بھرا ہوا ثابت ہوا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ اب امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے دوسروں، حتیٰ کہ چین سے بھی مدد مانگ رہا ہے۔
عباس عراقچی نے خطے کے پڑوسی ممالک سے اپیل کی کہ وہ غیر ملکی جارح قوتوں کو خطے سے باہر نکالنے میں مدد کریں۔ ان کے مطابق ایران کے تحفظات صرف اسرائیل سے متعلق ہیں۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم آبی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ خلیجی ممالک سے تیل اور توانائی کی بڑی مقدار اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے دھمکی آمیز بیانات کے بعد اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث اس کی سلامتی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔