ایران جنگ میں امریکی تیل کمپنیوں کی چاندی، 63 ارب ڈالر اضافی منافعے کا امکان

خلیج سے تیل اور گیس کی سپلائی معطل ہونے پر اپنی مصنوعات مہنگے داموں بیچنے لگیں

               
March 15, 2026 · بام دنیا

خلیج کے خطے میں جاری جنگ اور تیل کی عالمی رسد میں تعطل نے امریکی توانائی کے شعبے کے لیے ریکارڈ منافع کے دروازے کھول دیے ہیں۔ معاشی ماہرین اور حالیہ مالیاتی رپورٹس کے مطابق، امریکی تیل و گیس کی کمپنیاں اس بحران کے نتیجے میں مجموعی طور پر 63 ارب ڈالر کا خطیر ‘ونڈ فال’ (غیر متوقع) منافع حاصل کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہیں۔

مارچ 2026 کے اوائل سے ایران اور امریکہ و اسرائیل کی جنگ نے آبنائے ہرمز تقریبا بند کردی۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد سے اوپر دھکیل دیا ہے۔

جہاں مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی کے راستے (خاص طور پر آبنائے ہرمز) غیر محفوظ ہو چکے ہیں، وہیں امریکہ کا ‘شیل آئل’ (Shale Oil) عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے سب سے محفوظ متبادل بن کر ابھرا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی کمپنیوں کو ہونے والے اس غیر معمولی فائدے کی تین بڑی وجوہات ہیں:

  • تیل کی برآمدات میں اضافہ: یورپی اور ایشیائی ممالک مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کم کر کے اب بڑے پیمانے پر امریکی خام تیل خرید رہے ہیں۔
  • ایل این جی (LNG) کی قیمتیں: گیس کی عالمی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافے نے امریکی گیس ایکسپورٹرز کے منافع کو دوگنا کر دیا ہے۔
  • کم پیداواری لاگت: امریکی کمپنیوں کے لیے تیل نکالنے کی لاگت مستحکم ہے، لیکن وہ اسے عالمی مارکیٹ کی نئی اور مہنگی قیمتوں پر بیچ رہی ہیں۔

ایک طرف جہاں وال سٹریٹ پر تیل کے حصص (Shares) کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، وہیں امریکی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں $3.50 فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہیں۔

امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگی منافع خوری (War Profiteering) کے زمرے میں آتا ہے۔ جب دنیا ایک انسانی اور توانائی کے بحران سے گزر رہی ہے، کارپوریٹ سیکٹر کی جیبیں بھرنا معاشی ناانصافی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خلیج میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو یہ منافع 63 ارب ڈالر کی حد بھی پار کر سکتا ہے۔ تاہم، اس صورتحال نے عالمی افراطِ زر (Inflation) میں اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے جو عالمی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہوگا۔

بڑا منافع سمیٹنے والی کمپنیاں

اس 63 ارب ڈالر کے مجموعی منافع میں سب سے بڑا حصہ امریکہ کی “بگ آئل” کمپنیوں کا ہے۔

  1. ایکسن موبل (ExxonMobil)

یہ امریکہ کی سب سے بڑی تیل کمپنی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بحران کے دوران قیمتوں میں اضافے سے ایکسن موبل کو 15 سے 18 ارب ڈالر کا اضافی منافع ہو سکتا ہے۔

  1. شیورون (Chevron)

شیورون کا اضافی منافع 10 سے 12 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ شیورون کا امریکی ریاست ٹیکساس اور نیو میکسیکو کے ‘پرمیان بیسن’ (Permian Basin) میں تیل نکالنے کا وسیع نیٹ ورک ہے، جہاں سے اب پیداوار بڑھا کر عالمی منڈی کو فراہم کی جا رہی ہے۔

  1. کونوکو فلپس (ConocoPhillips)

اس کمپنی کو 6 سے 8 ارب ڈالر کے اضافی منافع کی توقع ہے۔ یہ کمپنی خالصتاً تیل نکالنے اور فروخت کرنے (Upstream) پر توجہ دیتی ہے، اس لیے قیمتوں میں براہِ راست اضافے کا اسے سب سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔

  1. ایل این جی برآمد کنندگان (Cheniere Energy & Venture Global)

ان کمپنیوں کو مجموعی طور پر 5 سے 7 ارب ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔
خلیج میں کشیدگی کی وجہ سے قطر اور دیگر ممالک سے گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد یورپی ممالک اب ریکارڈ قیمتوں پر امریکی مائع قدرتی گیس (LNG) خریدنے پر مجبور ہیں۔

  1. شیل آئل کی دیگر کمپنیاں (EOG Resources, Occidental Petroleum)

دیگر درمیانی اور بڑی سطح کی امریکی کمپنیوں کو مجموعی طور پر 20 ارب ڈالر سے زائد کا ونڈ فال منافع ملنے کی توقع ہے۔

ان خبروں کے بعد وال سٹریٹ پر ان کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔