عید الفطر پر پاکستان اور افغان طالبان کا ’عارضی جنگ بندی‘ کا اعلان

سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر جنگ بندی 23 مارچ کی شب تک نافذ ہوگی، فریقین کا اعلان

               
March 18, 2026 · اہم خبریں, قومی

پاک افغان سرحد

افغانستان کی طالبان حکومت اور پاکستان نے سرحدی کشیدگی اور حالیہ فضائی حملوں کے بعد عید الفطر کی آمد کے موقع پر ایک دوسرے کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں “عارضی وقفے” یا جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی خصوصی درخواست پر کیا گیا ہے۔

وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق، آپریشنز میں اس عارضی وقفے کا آغاز 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب سے ہو چکا ہے، جو 23 اور 24 مارچ کی درمیانی شب تک نافذ العمل رہے گا۔ اس فیصلے کا مقصد اسلامی اقدار کا احترام اور دونوں ممالک کے عوام کو عید کے پرمسرت موقع پر امن و سکون فراہم کرنا ہے۔

یہ جنگ بندی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں سے حالات انتہائی کشیدہ تھے۔

پاکستان نے فروری کے آخر میں افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف ‘آپریشن غضبِ للحق’ شروع کیا تھا۔

عارضی جنگ بندی کے پیچھے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان ممالک نے دونوں ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مقدس تہوار کے احترام میں ہتھیار ڈال دیں تاکہ خطے میں مزید خونریزی کو روکا جا سکے اور مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔

اگرچہ پاکستان نے خیر سگالی کے طور پر کارروائیاں معطل کی ہیں، لیکن وزیرِ اطلاعات نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر اس دوران سرحد پار سے کوئی بھی حملہ، ڈرون کارروائی یا دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تو پاکستان کا جواب فوری اور بھرپور ہوگا۔

افغان طالبان نے بھی ایک بیان میں جنگ بندی کا اعلان کیا اور کہاکہ یہ جنگ بندی برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور قطر کے مطالبے پر کی جا رہی ہے۔