پاکستان مدد نہ کرتا تو امریکہ کو شکست نہیں دے سکتے تھے، طالبان رہنما

حافظ محب اللہ شاکر کی پرانی ویڈیو وائرل ہوگئی، پاکستان سے محبت کا اظہار

               
March 19, 2026 · امت خاص, اہم خبریں

محب اللہ شاکر کی اپریل 2025 میں پشاور میں پریس کانفرنس کے موقع پر لی گئی تصویر

پشاور میں افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر کی ایک پرانی ویڈیو پاکستانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ امریکہ کے خلاف طالبان کی کامیابی پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں پاکستان جیسا کوئی اور ہمدرد، دوست اور مسلمان ملک موجود نہیں۔

امت ڈیجٹل فیکٹ چیک کے مطابق یہ ویڈیو 2022 کی ہے، 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد طالبان پاکستان کے مشکور تھے۔ بعد میں ستمبر 2024 میں یہی محب اللہ شاکر اس وقت سرخیوں میں آئے جب وہ ایک کانفرنس کے دوران پاکستان کے قومی ترانے پر کھڑے نہیں ہوئے۔  سوشل میڈیا پر بعض لوگ اس ویڈیو میں موجود شخص کو ملا عبدالغنی برادر بھی قرار دے رہے ہیں تاہم یہ محب اللہ شاکر ہیں۔

اس ویڈیو کو دو دن قبل ایک طالبان مخالف افغان شوشل میڈیا پلیٹ فارم زاویہ نیوز نے پوسٹ کیا جس کے بعد پاکستانی اکاؤنٹ سے یہ بڑے پیمانے پر پوسٹ ہو رہی ہے۔ ویڈیو ایک ایسے موقع پر وائرل ہوئی ہے جب پاکستان اور افغان طالبان حکومت حالت جنگ میں ہیں اور عید کے موقع پر انہوں نے عارضی جنگ بندی کی ہے۔ بعض بیانات میں کہا گیا ہے کہ افغانوں نے روس اور امریکہ کو شکست دی۔

وائرل ہونے والی اس پرانی ویڈیو میں حافظ محب اللہ شاکر نے پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی مٹی سے دل سے لگاؤ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس کے خلاف کامیابی اور بعد ازاں امریکہ پر غلبہ ہجرت کی بدولت ممکن ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے دیگر اسلامی ممالک جیسے تاجکستان، ترکمنستان، قازقستان اور ازبکستان نے افغانوں کو پناہ نہیں دی، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ ان کے مطابق ان ممالک میں نہ افغانوں کو جگہ ملی اور نہ ہی ہجرت کی اجازت، جبکہ پاکستان نے انہیں ہر طرح کی سہولیات فراہم کیں
طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے جہاں غیر ملکی شہریوں کے لیے کاروبار، تعلیم اور علاج معالجے کے مواقع موجود ہیں، اور اسکولوں، کالجوں، مارکیٹوں اور ہسپتالوں کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں
انہوں نے کہا کہ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا، مگر مہاجرین کے لیے ایسی آسانیاں کہیں اور نہیں دیکھیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں افغان شہری جس آزادی سے رہتے ہیں، اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔