ہرمز بحران میں سعودی عرب کو بچانے والی پائپ لائن کی کہانی
پچاس برس پہلے تعمیر ہونے والی گیس لائن کی بدولت ریاض کی تیل برآمدات جاری
خلیج میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا ایک سنگین توانائی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے، لیکن اسی بحران کے دوران سعودی عرب کا نصف صدی پرانا ایک تزویراتی منصوبہ عالمی منڈیوں کے لیے ریلیف کا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔
یہ کہانی اس دور اندیشی کی ہے جس نے نہ صرف سعودی معیشت کو ممکنہ تباہی سے بچایا بلکہ عالمی تیل سپلائی کے تسلسل کو بھی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
1970 کی دہائی کے اواخر میں سعودی قیادت نے اس خطرے کو بھانپ لیا تھا کہ مملکت کی تمام تیل برآمدات خلیج فارس کے ایک تنگ راستے، آبنائے ہرمز، پر منحصر ہیں۔ اگر یہ راستہ کبھی بند ہو جاتا یا کسی جنگ کا شکار ہو جاتا تو سعودی عرب کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا تھا۔
اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے اس خطرے کو محسوس کیا، جبکہ ان کے جانشین شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور میں اس سوچ کو عملی شکل دی گئی۔ قیادت نے فیصلہ کیا کہ ملک کو ایک متبادل راستہ درکار ہے جو خلیج فارس سے ہٹ کر بحیرہ احمر تک تیل پہنچا سکے۔
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن: صحراؤں میں بچھائی گئی شہ رگ
1978 میں ایک بڑے منصوبے پر کام کا آغاز ہوا، جسے بعد میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن یا پیٹرو لائن کے نام سے جانا گیا۔ تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل کے میدانوں کو مغرب میں بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے جوڑتی ہے۔
1982 میں مکمل ہونے والا یہ منصوبہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے انجینئرنگ کارناموں میں شمار کیا گیا۔ اس کے ذریعے سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کو آبنائے ہرمز کی جغرافیائی مجبوری سے نکال کر ایک محفوظ اور متبادل راستے سے جوڑ دیا۔
اب جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، یہی پائپ لائن سعودی عرب کے لیے لائف لائن بن گئی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 9 مارچ 2026 کو ایک دن میں تقریباً 5.9 ملین بیرل تیل ینبع کی بندرگاہ سے برآمد کیا گیا، جو اس نظام کے لیے ایک نیا ریکارڈ ہے۔
توانائی حکام کے مطابق پائپ لائن کو مکمل صلاحیت یعنی تقریباً 7 ملین بیرل یومیہ تک لے جانے کی تیاریاں بھی جاری ہیں تاکہ عالمی منڈیوں کو سپلائی میں کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی اسی نوعیت کا منصوبہ حبشان-فجیرہ پائپ لائن کی صورت میں مکمل کیا، جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے اپنا تیل خلیج عمان تک پہنچاتا ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے اس راستے کو بھی جزوی طور پر خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
کیا سعودی پائپ لائن بھی خطرے میں ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن ملک کے اندرونی صحرائی علاقوں سے گزرتی ہے اور ایرانی سرحد سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہے، جس کی وجہ سے اسے براہ راست نشانہ بنانا آسان نہیں۔ ایسے کسی حملے کو سعودی سرزمین پر براہ راست فوجی کارروائی تصور کیا جائے گا، جو ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران میں سعودی عرب کی یہ پائپ لائن عالمی منڈیوں کے لیے استحکام کا ذریعہ بن گئی ہے۔ جب کئی ممالک کی تیل سپلائی آبنائے ہرمز میں رکی ہوئی ہے، سعودی عرب بحیرہ احمر کے راستے یورپ اور امریکہ سمیت مختلف منڈیوں کو بلا تعطل تیل فراہم کر رہا ہے۔
یوں نصف صدی قبل کیا گیا ایک تزویراتی فیصلہ آج 2026 کے بحران میں نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک اہم حفاظتی دیوار ثابت ہو رہا ہے۔