ایران سے مذاکرات کے ٹرمپ دعوے پر عالمی منڈیاں سنبھل گئیں، تیل قیمتوں میں کمی

مذاکرات کی ایرانی تردید کے بعد ٹرمپ کا نیا بیان، تہران نے بات چیت کیلئے رابطہ کیا، امریکی صدر کا دعوی

               
March 23, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ ایران کے ساتھ حالیہ دنوں میں ہونے والی بات چیت “بہت اچھی اور نتیجہ خیز” رہی ہے اور امریکہ نے ایرانی توانائی تنصیبات پر ممکنہ فوجی حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے ہیں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں اچانک بہتری دیکھنے میں آئی ہے جب کہ تیل کی قیمتیں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد یورپ سمیت عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی۔ لندن اسٹاک ایکسچینج نے اپنی ابتدائی خسارے کا بڑا حصہ واپس حاصل کر لیا، جبکہ دیگر یورپی مارکیٹس میں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا نظر آیا۔

سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں ممکنہ کشیدگی میں کمی کے اشارے کے طور پر لیا، کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا تھا۔

خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد کمی

امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں ایک ہی دن میں تقریباً 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 88 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جو ایک ہفتے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ کمی اس خدشے کے کم ہونے کی وجہ سے ہوئی کہ امریکہ فوری طور پر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے، جس سے عالمی سپلائی مزید متاثر ہوتی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے پر “اہم نکات پر اتفاق” ہو چکا ہے اور امریکہ ایرانی قیادت کے ایک “اہم اور بااثر شخص” سے رابطے میں ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت ایران کے نئے سپریم لیڈر سے نہیں ہو رہی۔

ٹرمپ نے کہا کہ “میں نے فون نہیں کیا، انہوں نے کیا اور وہ معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔”

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا اور حکام نے براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے، جس سے دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔

فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکہ۔ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار، بندرگاہوں اور ترسیل کے راستوں کو شدید متاثر کیا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ رک گیا تھا، جس سے قیمتیں تیزی سے اوپر گئی تھیں اور عالمی منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہو گئی تھیں۔

اب امریکی حملوں کے مؤخر ہونے اور ممکنہ سفارتی پیش رفت کے اشاروں نے وقتی طور پر مالیاتی منڈیوں اور توانائی مارکیٹ کو ریلیف دیا ہے، تاہم تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ صورتحال اب بھی نازک ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔