چوری کیے گئے 7 کتوں کی فرار ہو کر گھر واپسی، اصل کہانی کیا ہے؟
چین میں کتوں کو گوشت کیلئے مبینہ طور پر چرایا گیا تھا، سڑک پر ایک شخص نے ویڈیو بنائی
کتوں کو سڑک کے کنارے چلتا دیکھا گیا اور ایک شخص نے ویڈیو بنا لی
چین میں مبینہ طور پر چوری کیے گئے سات پالتو کتے فرار ہو کر 17 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے اپنے گھروں تک واپس پہنچ گئے، جس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ہلچل مچا دی اور جانوروں کے تحفظ سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس پورے معاملے کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟
یہ واقعہ شمال مشرقی چین کے شہر چانگ چون میں پیش آیا، جہاں 16 مارچ کو ایک شہری نے مصروف شاہراہ پر سات کتوں کے گروہ کو ایک ساتھ چلتے ہوئے دیکھا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ کتے نہایت منظم انداز میں ایک زخمی جرمن شیفرڈ کے گرد حفاظتی حصار بنائے ہوئے تھے، جبکہ آگے چلنے والا کورگی بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتا تھا کہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔
اس گروہ میں جرمن شیفرڈ، گولڈن ریٹریور، لیبراڈور ریٹریور، کورگی اور پیکنگیز شامل تھے، جو بظاہر ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور پہلے سے ایک دوسرے کے ساتھ گھومنے کے عادی تھے۔
ویڈیو بنانے والے عینی شاہد کے مطابق کتے عام آوارہ جانوروں جیسے نہیں لگ رہے تھے بلکہ ایک منظم گروہ کی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے سفر کر رہے تھے۔ جب انہیں روکنے یا محفوظ مقام پر لے جانے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے نظرانداز کیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔
بعد ازاں مقامی امدادی تنظیم (بٹر کافی اسٹرے ڈاگ بیس) نے کارروائی کرتے ہوئے رضاکاروں اور ڈرون کی مدد سے ان کتوں کا سراغ لگایا۔
ایک رضاکار کے مطابق شبہ ہے کہ ان کتوں کو کتے کے گوشت کی دکان چلانے والے افراد نے چوری کیا تھا اور یہ کسی ٹرک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ کسی نے بھی ان کتوں کو فرار ہوتے نہیں دیکھا۔
چین کے بعض علاقوں میں اب بھی کتے کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے، اور ڈالیان اینیمل پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے مطابق مہنگی لاگت کے باعث کتے پالنے کے بجائے چوری شدہ یا آوارہ کتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ 19 مارچ تک تمام ساتوں کتے اپنے مالکان تک واپس پہنچ گئے، جو تین مختلف گھروں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ شاہراہ جہاں انہیں پہلی بار دیکھا گیا، ان کے گاؤں سے تقریباً 17 کلومیٹر دور تھی۔
کتوں کے مالکان نے اس واپسی پر خوشی اور حیرت کا اظہار کیا، جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے ان کی وفاداری اور باہمی تعاون کو سراہا۔ کچھ افراد نے اس واقعے کو فلمی کہانی قرار دیا، جبکہ کئی نے چین میں جانوروں کے تحفظ کے قوانین سخت کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
فی الحال کتوں کو چوری کرنے والے افراد کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آ سکیں، تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر گیا ہے کہ جانوروں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین کیوں ضروری ہیں۔