جنگ بندی سے پہلے ایرانی میزائل طاقت ختم کرنے کے لیے خلیجی ملکوں کا امریکہ پرزور۔سی این این کا دعویٰ
حکام م نے کھلے عام کہا ہے کہ تہران کی فوجی صلاحیتیںمستقبل کے کسی بھی علاقائی نظام میں برقرار نہیں رہنی چاہئیں
امریکی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ملکوں نے جنگ کے بعد بدترحالات سے بچنے کے لیے امریکہ پرزوردیاہے کہ ایران کی میزائل طاقت ختم کرنےدی جائے۔ادارے کا کہناہے کہ ایران کی جنگ سے پہلے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلیجی عرب اتحادیوں نے حملوں کے خلاف سخت لابنگ کی تھی، کیونکہ انہیں انی حملوں کا ڈر تھا جو تہران اب ان پر کر رہا ہے۔ جیسے جیسے جنگ طویل ہو رہی ہے، انہیں خدشہ ہے کہ (امریکی فوج کا) جلد انخلاانہیں بدتر حالت میں چھوڑ سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران، جب جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی رفتار بڑھی ہے، خلیجی عرب حکام نے کھلے عام کہا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں، جنہیں امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کی سزا دینے کے لیے ان کے خلاف استعمال کیا گیا، مستقبل کے کسی بھی علاقائی نظام میں برقرار نہیں رہنی چاہئیں۔ اگرچہ ایٹمی خطرہ اب بھی منڈلا رہا ہے، لیکن وہ ایران کے میزائلوں کو زیادہ فوری خطرہ سمجھتے ہیں۔
ایک علاقائی اہلکار نے سی این این کاایک علاقائی ذریعے کے حوالے سے بتاناہے کہ سعودی عرب چاہتا ہےجنگ ختم ہونے سے پہلے تہران کے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کی صلاحیتوں کو جتنا ممکن ہو سکے کم کیا جائے۔ اسی اہلکار کے مطابق، متحدہ عرب امارات کا ماننا ہے کہ خطے کے لیے ایرانی میزائل اور ڈرون پروگرام کے ساتھ رہنا مشکل ہوگا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے گزشتہ ہفتے کہا کہ ایران کی جنگ سے ملنے والا پیغام بالکل واضح ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہماری سوچ صرف جنگ بندی پر نہیں رکتی، بلکہ ان حلوں کی طرف مڑتی ہے جو خلیج میں پائیدار سلامتی کو یقینی بنائیں، جس میں ایران کے ایٹمی خطرے، میزائلوں، ڈرونز اور سمندری راستوں (Straits) پر بدمعاشی کا تدارک شامل ہے۔ اتوار کو ایکس (X) پر ایک پوسٹ میں انہوں نے مزید کہاکہ یہ ناقابلِ تصور ہے کہ یہ جارحیت ایک مستقل خطرے کی صورت اختیار کر لے۔
سی این این کے مطابق ،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس ماہ کہا تھا کہ مقصد ایرانی جارحانہ میزائلوں کو تباہ کرنا، ایرانی میزائلوں کی پیداوار کو تباہ کرنا، ان کی بحریہ اور دیگر حفاظتی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی زیادہ تر فوجی طاقت پڑوسی عرب ممالک کے خلاف استعمال کی گئی ہے، جس نے علاقائی رہنماؤں کو حیران کر دیا ہے جو اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ انہوں نے جنگ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف سرگرم عمل رہے۔ جیسے جیسے جنگ آگے بڑھی، تہران نے کئی خلیجی عرب ریاستوں پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ کو اپنی سرزمین سے اسلامی جمہوریہ پر حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہیں۔
جنگ کے دوران ایران کے مطالبات بھی بدل گئے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں ایک نئی صورتحال (status quo) چاہتے ہیں جس میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر تہران کے کنٹرول کو باقاعدہ بنانا، جنگی ہرجانہ اور خلیجی عرب ریاستوں اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پرانے اتحاد کی تبدیلی شامل ہو۔ اس نے اپنے عرب پڑوسیوں پر حملوں کو وسعت دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے کہاتھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان صدر ٹرمپ پر ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، اور ان کا استدلال ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا ایک تاریخی موقع ہے۔تاہم، سعودی عرب کی عوامی سطح پر کہی جانے والی باتیں اب بھی کشیدگی میں کمی پر مرکوز ہیں۔ ایک سینئر سعودی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ریاض اس تنازعے کے پرامن حل کے لیے اب بھی “حمایت یافتہ” ہے، جیسا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے تھا۔ اہلکار نے کہاکہ ہمارا بنیادی مقصد آج اپنے لوگوں اور سویلین انفراسٹرکچر کا روزانہ ہونے والے حملوں سے دفاع کرنا ہے۔ ہم ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور ہماری وابستگی غیر تبدیل شدہ ہے۔
امریکی جریدہ ”واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق ،خلیج فارس میں امریکہ کے اتحادی اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں کوئی جلد بازی میں کیا گیا سمجھوتہ خطے کو ایک ماہ پہلے کی نسبت مزید غیر مستحکم نہ کر دے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو خدشہ ہے کہ ایسا معاہدہ خطے کو غیر مستحکم چھوڑ دے گا، اور انہوں نے تہران سے مراعات حاصل کرنے کے لیے کوششوں میں تیزی لانے کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔