اسرائیل فلسطینیوں کا وجود مٹانا چاہتا ہے۔ حماس

اسامہ حمدان نے کہا غزہ جنگ کا مقصد صرف قبضہ نہیں بلکہ فلسطینیوں کی بےدخلی ہے۔

May 23, 2026 · بام دنیا

حماس کے سینئر رہنما اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں جاری فوجی کارروائی صرف قبضے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کرنا ہے۔

ایک انٹرویو میں اسامہ حمدان نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں اپنی “نسل کش جنگ” کے ذریعے فلسطینیوں کو ایک واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ فلسطین میں ان کے لیے کوئی مستقبل موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا اصل مقصد غزہ کی پٹی میں فلسطینی وجود کا خاتمہ ہے، نہ کہ صرف قبضہ برقرار رکھنا۔ ان کے بقول اسرائیل فلسطینیوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ان کے مسئلے کا حل فلسطین میں رہنا نہیں بلکہ وہاں سے نقل مکانی کرنا ہے۔

اسامہ حمدان نے ایسے حالات میں حماس سے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی باشعور انسان آزادی کی حالت، چاہے اس میں مشکلات اور موت ہی کیوں نہ ہو، غلامی اور ذلت کی زندگی پر ترجیح دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہی فلسطینی کاز کے تحفظ کی بہترین ضمانت ہے۔

حماس رہنما نے خبردار کیا کہ اگر فلسطینیوں پر اسرائیلی دباؤ جاری رہا تو خطے میں دوبارہ شدید تصادم جنم لے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فلسطینیوں کو “پیچھے سمندر اور سامنے دشمن” جیسی صورتحال کا سامنا ہوا تو صرف حماس نہیں بلکہ تمام فلسطینی لڑیں گے۔